1926 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ وَالْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِى زُرْعَةَ عَنْ أَبِى لَيْلَى الْكِنْدِىِّ عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ قَالَ قَدِمَ عَلَيْنَا مُصَدِّقُ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ فَقَرَأْتُ فِى كِتَابِهِ لاَ يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ وَلاَ يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ قَالَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ بِنَاقَةٍ عَظِيمَةٍ حَسْنَاءَ مُلَمْلَمَةٍ فَأَبَى أَنْ يَأْخُذَهَا وَقَالَ مَا عُذْرِى عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- إِذَا أَخَذْتُ هَذِهِ مِنْ مَالِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ. قَالَ يَحْيَى ثُمَّ سَمِعْتُ شَرِيكًا بَعْدُ يَذْكُرُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ فَذَكَرْتُهُ لِوَكِيعٍ فَقَالَ إِنَّمَا سَمِعْنَاهُ مِنْهُ عَنْ عُثْمَانَ.
1926 حضرت سوید بن غفلہ (رض) بیان کرتے ہیں ہمارے پاس نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے زکوۃ وصول کرتے ایک شخص آیا۔ راوی بیان کرتے ہیں میں نے اس کی تحریر میں یہ بات پڑھی کہ الگ ‘ الگ مال کو اکٹھا نہ کیا جائے اور اکٹھے الگ الگ ‘ الگ نہ کیا جائے ‘ زکوۃ (ادائیگی یاوصولی) سے بچنے کے لیے۔ راوی بیان کرتے ہیں پھر اس کے بعد اس کے پاس شخص بڑی اونٹنی لے کر آیاجوبہت خوبصورت اور صحت مند تھی ‘ تو اس نے اونٹنی کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔
وہ بولا اگر میں نے ایک مسلمان کے مال میں سے اسے وصول کرلیا “ تو پھر میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بارگاہ میں کیا کروں گا۔
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے ‘ تاہم اس میں کچھ اختلاف ہے۔