1927 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ النُّعْمَانِىُّ الْبَاهِلِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو عُتْبَةَ أَحْمَدُ بْنُ الْفَرَجِ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَنْطَاكِىُّ قَاضِى الْمِصِّيصَةِ حَدَّثَنَا أَبُو حُمَيْدٍ الْحِمْصِىُّ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الْحِمْصِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُهَاجِرٍ عَنْ ثَابِتٍ يَعْنِى ابْنَ عَجْلاَنَ حَدَّثَنَا عَطَاءٌ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا كَانَتْ تَلْبَسُ أَوْضَاحًا مِنْ ذَهَبٍ فَسَأَلَتْ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَتْ أَكَنْزٌ هُوَ فَقَالَ « إِذَا أَدَّيْتِ زَكَاتَهُ فَلَيْسَ بِكَنْزٍ
1927 عطاء بیان کرتے ہیں سیدہ ام سلمہ (رض) نے سونے کا ہارپہنا ہوا تھا ‘ انھوں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس بارے میں دریافت کیا ‘ انھوں نے دریافت کیا کیا اسے کنزکہا جائے گا ؟ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جب تم نے اس کی زکوۃ اداکردی تو یہ کنزشمار نہیں ہوگا۔ اس کا مفہوم ایک ہی ہے۔