1928 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ أَبُو نَشِيطٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ طَارِقٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِى جَعْفَرٍ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَطَاءٍ أَخْبَرَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ أَنَّهُ قَالَ دَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَتْ دَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَرَأَى فِى يَدَىَّ فَتَخَاتٍ مِنْ وَرِقٍ فَقَالَ « مَا هَذَا يَا عَائِشَةُ ». فَقُلْتُ صَنَعْتُهُنَّ أَتَزَيَّنُ لَكَ فِيهِنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ « أَتُؤَدِّينَ زَكَاتَهُنَّ » فَقُلْتُ لاَ أَوْ مَا شَاءَ اللَّهُ مِنْ ذَلِكَ. قَالَ « هُنَّ حَسْبُكِ مِنَ النَّارِ ». مُحَمَّدُ بْنُ عَطَاءٍ هَذَا مَجْهُولٌ.
1928 عبداللہ بن شدادبیان کرتے ہیں ہم لوگ سیدہ عائشہ (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ انھوں نے فرمایا ایک مرتبہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پاس تشریف لائے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے ہاتھ میں چاندی کے کنگن دیکھے ‘ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت کیا اے عائشہ ! یہ کہاں سے آئے ہیں ؟ میں نے عرض کی انھیں میں نے بنایا ہے تاکہ انھیں پہن کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے آؤں ‘ یارسول اللہ ! نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت کیا کیا تم نے ان کی زکوۃ ادا کی ہے ؟ میں نے عرض کیا نہیں ! (یا جو بھی اللہ نے چاہا) تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ تمہارے جہنم (میں عذاب ہونے ) کے لیے کافی ہیں۔
محمد بن عطاء نامی راوی مجہول ہے۔