1962 - حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الدَّقِيقِىُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَنْبَأَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِى حَبِيبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ هَرِمٍ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَنْصَارِىَّ حَدَّثَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ حِينَ اسْتُخْلِفَ أَرْسَلَ إِلَى الْمَدِينَةِ يَلْتَمِسُ عَهْدَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى الصَّدَقَاتِ فَوُجِدَ عِنْدَ آلِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ كِتَابُ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- إِلَى عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ فِى الصَّدَقَاتِ وَوُجِدَ عِنْدَ آلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ كِتَابُ عُمَرَ إِلَى عُمَّالِهِ فِى الصَّدَقَاتِ بِمِثْلِ كِتَابِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- إِلَى عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ فَأَمَرَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ عُمَّالَهُ عَلَى الصَّدَقَاتِ أَنْ يَأْخُذُوا بِمَا فِى ذَيْنِكَ الْكِتَابَيْنِ فَكَانَ فِيهِمَا فِى صَدَقَةِ الإِبِلِ فَإِذَا زَادَتْ عَلَى التِّسْعِينَ وَاحِدَةٌ فَفِيهَا حِقَّتَانِ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَإِذَا زَادَتْ عَلَى الْعِشْرِينَ وَمِائَةٍ وَاحِدَةٌ فَفِيهَا ثَلاَثُ بَنَاتِ لَبُونٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ وَمِائَةً فَإِذَا كَانَتِ الإِبِلُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَلَيْسَ فِيمَا لاَ يَبْلُغُ الْعَشْرُ مِنْهَا شَىْءٌ حَتَّى يَبْلُغَ الْعَشْرَ.
1962 محمد بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں جب حضرت عمربن عبدالعزیز کو خلیفہ مقرر کیا گیا تو انھوں نے مدینہ منورہ پیغام بھیجا کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ اقدس سے تعلق رکھنے والا زکوۃ کے بارے میں کوئی حکم نامہ تلاش کریں ‘ تو حضرت عمروبن حزم (رض) کی اولاد کے پاس وہ حکم نامہ مل گیا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو مکتوب حضرت عمروبن حزم (رض) کو لکھا تھا ‘ جو زکوۃ کے بارے میں تھا ‘ اسی طرح حضرت عمربن خطاب (رض) کی آل کے پاس حضرت عمر (رض) کا وہ مکتوب مل گیا جو انھوں نے زکوۃ کے بارے میں اپنے اہل کاروں کو لکھا تھا اور یہ اس کے مطابق تھا جو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مکتوب میں تحریر ہے جو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمربن حزم (رض) کو بھیجا تھا۔
عمربن عبدالعزیز نے اپنے اہل کاروں کو زکوۃ کے بارے میں یہ حکم دیا کہ وہ ان دونوں مکتوبات کی روشنی میں وصول کریں۔
اونٹوں کی زکوۃ کے بارے میں ان دونوں میں یہی بات تحریر تھی کہ اگر ان کی تعداد نوے سے ایک بھی زیادہ ہوجائے تو ان میں دوحقہ کی ادائیگی لازم ہوگی یہ حکم ایک سوبیس تک ہے ‘ اگر وہ ایک سوبیس سے ایک بھی زیادہ ہوجائے تو ان میں تین بنت لبون کی ادائیگی لازم ہوگی ‘ یہ حکم ایک سوانتیس تک ہے ‘ جب اونٹوں کی تعداد اس سے زیادہ ہوجائے گی ‘ تو اگلے دس ہونے تک کوئی کو ادائیگی لازم نہیں ہوگی ‘ یہاں تک کہ اگلادس کا ہدف پورا ہوجائے۔