1970 - حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْبُسْرِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ هَارُونَ بْنِ رِئَابٍ عَنْ كِنَانَةَ بْنِ نُعَيْمٍ عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- أَسْتَعِينُهُ فِى حَمَالَةٍ فَقَالَ « أَقِمْ عِنْدَنَا فَإِمَّا أَنْ نَتَحَمَّلَهَا وَإِمَّا أَنْ نُعِينَكَ وَاعْلَمْ أَنَّ الْمَسْأَلَةَ لاَ تَصْلُحُ إِلاَّ لأَحَدِ ثَلاَثَةٍ رَجُلٍ تَحَمَّلَ حَمَالَةً عَنْ قَوْمٍ فَسَأَلَ حَتَّى يُؤَدِّيَهَا ثُمَّ يُمْسِكُ وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ أَذْهَبَتْ مَالَهُ فَسَأَلَ حَتَّى يُصِيبَ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ أَوْ قَوَامًا مِنْ عَيْشٍ ثُمَّ يُمْسِكُ وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ حَاجَةٌ حَتَّى يَشْهَدَ ثَلاَثَةٌ مِنْ ذَوِى الْحِجَى أَوْ مِنْ ذَوِى الصَّلاَحِ مِنْ قَوْمِهِ أَنْ قَدْ حَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ وَمَا سِوَى ذَلِكَ مِنَ الْمَسَائِلِ سُحْتٌ يَأْكُلُهُ صَاحِبُهُ سُحْتًا يَا قَبِيصَةُ ».
1970 حضرت قبیصہ بن مخارق (رض) بیان کرتے ہیں میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حمالہ کے لیے مددمانگی ‘ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تم ہمارے پاس ٹھہرے رہو یا ہم تمہیں حمالہ کے لیے کچھ دے دیں گے یاوی سے تمہاری مدد کردیں گے ‘ یہ بات یاد رکھنا کہ مانگنا کسی بھی شخص کے لیے جائز نہیں ہے ‘ صرف تین طرح کے لوگ دوسروں سے کچھ مانگ سکتے ہیں ایک وہ شخص جس نے کچھ لوگوں کو ادائیگی کرنی ہو اور پھر وہ کسی سے مانگے ‘ جب وہ اس ادائیگی کو کردے تو پھر کچھ نہ لے ‘ ایک وہ شخص جس (کی پیداوار کو) کوئی آفت لاحق ہوجائے اور وہ اس کے مال کو ضائع کردے ‘ وہ شخص مانگ سکتا ہے یہاں تک کہ اس کے لیے اپنی ضروریات پوری کرنے کا سامان ہوجائے (یہاں پر ایک لفظ کے بارے میں راوی کو لکھا ہے) پھر اس کے بعد وہ شخص رک جائے اور ایک وہ شخص جسے کوئی شدید ضرورت لاحق ہویہاں تک کہ تین سمجھ دار (یہاں راوی کو شک ہے) افراد جو اس کی قوم سے تعلق رکھتے ہوں ‘ وہ یہ گواہی دیں کہ اب اس شخص کے لیے مانگنا ہوچکا ہے (تو صرف یہی لوگ مانگ سکتے ہیں) اس کے علاوہ مانگنا حرام ہوگا ‘ اسے لینے والا شخص حرام کے طورپرا سے کھائے اے قبیصہ !