hadith book logo

Sunan Al Daraqutni: Hadith 1971

.

سنن الدارقطني

1971
Sunan Al Daraqutni
1971 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ الْبُهْلُولِ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ هَارُونَ بْنِ رِئَابٍ عَنْ كِنَانَةَ بْنِ نُعَيْمٍ عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ الْمُخَارِقِ قَالَ تَحَمَّلْتُ بِحَمَالَةٍ فَأَتَيْتُ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- أَسْأَلُهُ فِيهَا فَقَالَ « نُؤَدِّيهَا عَنْكَ وَنُخْرِجُهَا مِنْ نَعَمِ الصَّدَقَةِ أَوْ إِذَا جَاءَتْ نَعَمُ الصَّدَقَةِ ». ثُمَّ قَالَ « يَا قَبِيصَةُ إِنَّ الْمَسْأَلَةَ حُرِّمَتْ إِلاَّ لِثَلاَثَةٍ رَجُلٍ تَحَمَّلَ بِحَمَالَةٍ فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُؤَدِّيَهَا ثُمَّ يُمْسِكُ وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ حَاجَةٌ وَفَاقَةٌ حَتَّى شَهِدَ - وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً حَتَّى تَكَلَّمَ - ثَلاَثَةٌ مِنْ ذَوِى الْحِجَى مِنْ قَوْمِهِ أَنْ قَدْ أَصَابَهُ فَقْرٌ وَحَاجَةٌ فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يَجِدَ قَوَامًا مِنْ عَيْشٍ أَوْ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ فَاجْتَاحَتْ مَالَهُ فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَ سَدَادًا مِنْ عَيْشٍ أَوْ قَوَامًا مِنْ عَيْشٍ ثُمَّ يُمْسِكُ وَمَا سِوَى ذَلِكَ مِنَ الْمَسْأَلَةِ فَهُوَ سُحْتٌ ».
1971 حضرت قبیصہ بن مخارق (رض) بیان کرتے ہیں میں نے ایک ادائیگی کرنا تھی ‘ میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ تاکہ اس بارے میں آپ سے مددمانگوں ‘ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہم تمہاری طرف سے ادائیگی کردیں گے اور صدقے کے اونٹوں میں سے اسے نکال دیں گے۔ (راوی کو شک ہے ‘ شاید یہ الفاظ ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ) جب صدقے کے اونٹ آئیں گے ‘ پھر آپ نے ارشاد فرمایا اے قبیصہ ! مانگنا حرام ہے ‘ صرف تین لوگ مانگ سکتے ہیں ‘ ایک وہ شخص جس نے کوئی ادائیگی کرنی ہو اس کے لیے مانگنا جائز ہوجاتا ہے یہاں تک کہ ادائیگی کو اداکردے اور پھر اس کے بعد رک جائے ‘ ایک وہ شخص جسے شدید ضرورت اورفاقہ لاحق ہوجائے یہاں تک کہ اس کی قوم کے تین سمجھ دار افراد اس بات کی گواہی دیں (یہاں پر راوی کو شک ہے ‘ شاید یہ لفظ ہے ) یہ بات بیان کریں کہ اسے ایسا فاقہ اور ضرورت لاحق ہوئی ہے تو ایسے شخص کے لیے بھی مانگنا جائز ہے یہاں تک کہ وہ اپنی ضروریات پوری کرنے کے قابل ہوجائے اور ایک وہ شخص جسے آفت لاحق ہو اور وہ اس کے مال کو ضائع کردے ‘ ایسے شخص کے لیے بھی مانگنا جائز ہے ‘ یہاں تک کہ وہ اپنی ضروریات پوری کرنے کے قابل ہوجائے ‘ پھر اس کے بعد رک جائے ‘ اس کے علاوہ مانگ کر جو بھی لیا جائے گا وہ حرام ہوگا۔