1972 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْمَارِسْتَانِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَسْكَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ وَالثَّوْرِىُّ جَمِيعًا عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِى سَعِيدٍ الْخُدْرِىِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لاَ تَحِلُّ الْمَسْأَلَةُ لِغَنِىٍّ إِلاَّ لِخَمْسَةٍ الْعَامِلِ عَلَيْهَا وَالْغَازِى فِى سَبِيلِ اللَّهِ وَالْغَارِمِ أَوِ الرَّجُلِ اشْتَرَاهَا بِمَالِهِ أَوْ مِسْكِينٍ تُصُدِّقَ عَلَيْهِ فَأَهْدَى لِغَنِىٍّ ».
1972 حضرت ابوسعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے خوشحال شخص کے لیے کسی سے کچھ مانگنا جائز نہیں ہے ‘ صرف پانچ آدمیوں کا حکم مختلف ہے ‘ ایک وہ شخص جو زکوۃ کی وصولی کے لیے مقررہو ‘ ایک اللہ کی راہ میں جہاد میں شریک ہونے والا نمازی ‘ ایک وہ شخص جس نے قرض ادا کرنا ہو ‘ ایک وہ شخص جس نے اپنے مال میں سے اسے خریدا ‘ ایک وہ مسکین جسے صدقہ کیا گیا اور پھر وہ کسی خوشحال کو ہدیے کے طور پر دیدے۔