1974 - حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُعَلَّى بْنِ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنِى الْحُسَيْنُ عَنْ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِى ثَابِتٍ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِىٍّ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « مَنْ سَأَلَ مَسْأَلَةً عَنْ ظَهْرِ غِنًى اسْتَكْثَرَ بِهَا مِنْ رَضْفِ جَهَنَّمَ ». قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا ظَهْرُ الْغِنَى قَالَ « عَشَاءُ لَيْلَةٍ ». عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ مَتْرُوكٌ.
1974 حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے جو شخص خوشحال ہونے کا باوجود کچھ مانگتا ہے ‘ وہ اس عمل کے ذریعے جہنم کے عذاب میں اضافہ کرتا ہے ‘ انھوں نے عرض کی یارسول اللہ ! خوشحالی سے مراد کیا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا رات کا کھانا میسر ہونا۔
عمربن خالدنامی راوی متروک ہے۔