1975 - حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ اللَّبَّانِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ النُّبَيْرَةُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْجَعْفَرِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « مَنْ سَأَلَ النَّاسَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِى وَجْهِهِ خُمُوشٍ أَوْ خُدُوشٌ ». قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْغِنَى قَالَ « خَمْسُونَ دِرْهَمًا أَوْ قِيمَتُهَا مِنَ الذَّهَبِ ». ابْنُ أَسْلَمَ ضَعِيفٌ.
1975 حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جو شخص خوشحال ہونے کے باوجودلوگوں سے مانگنا ہے جب وہ قیامت کے دن آئے گا ‘ تو اس کے چہرے پر داغ ہوگا (یہاں پر ایک لفظ کے ب ارے میں راوی کو شک ہے) ۔ عرض کی گئی یارسول اللہ ! خوشحالی سے مراد کیا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا پچاس درہم یا ان کی قیمت جتنا سونا۔
ابن اسلم نامی راوی ضعیف ہے۔