1981 .حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ يَعِيشَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ إِسْحَاقَ عَنْ أَبِى الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِالصَّدَقَةِ فَقِيلَ لَهُ مَنَعَ ابْنُ جَمِيلٍ وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَالْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَا نَقَمَ ابْنُ جَمِيلٍ إِلاَّ أَنَّهُ كَانَ فَقِيرًا فَأَغْنَاهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَأَمَّا خَالِدٌ فَإِنَّكُمْ تَظْلِمُونَ خَالِدًا قَدِ احْتَبَسَ أَدْرَاعَهُ وَأَعْتُدَهُ فِى سَبِيلِ اللَّهِ وَأَمَّا الْعَبَّاسُ فَهِىَ عَلَىَّ وَمِثْلُهَا مَعَهَا هِىَ لَهُ ».
1981 حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زکوۃ کی ادائیگی کا حکم دیاتو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتایا گیا ابن جمیل ‘ خالد بن ولید اور عباس بن عبدالمطلب نے زکوۃ کی ادائیگی سے انکار کردیا ہے ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جمیل کا قصور یہ ہے وہ غریب تھا ‘ اللہ تعالیٰ اور اللہ کے رسول نے اسے غنی کردیا ‘ خالد کا جہاں تک تعلق ہے تو تم لوگوں نے اس کے ساتھ زیادتی کی ہے کیونکہ اس نے تمام زرہیں اور اپنا تمام ترسازوسامان اللہ تعالیٰ کی راہ کے لیے وقف کردیا ہوا ہے جب تک جناب عباس کا تعلق ہے تو یہ ادائیگی میرے ذمہ ہے اور اس کے ساتھ اتنی ہی مزید ادائیگی میں انھیں بھی کردوں گا۔