1982 - حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّنْدَلِىُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِىُّ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ شُعَيْبٍ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ عَنْ أَبِى الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ بَعَثَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- عُمَرَ سَاعِيًا عَلَى الصَّدَقَةِ فَمَنَعَ ابْنُ جَمِيلٍ وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَالْعَبَّاسُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَا يَنْقِمُ ابْنُ جَمِيلٍ إِلاَّ أَنْ يَكُونَ فَقِيرًا فَأَغْنَاهُ اللَّهُ وَأَمَّا خَالِدٌ فَإِنَّكُمْ تَظْلِمُونَ خَالِدًا وَقَدِ احْتَبَسَ أَدْرَاعَهُ وَأَعْتَادَهُ فِى سَبِيلِ اللَّهِ وَأَمَّا الْعَبَّاسُ فَعَمُّ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَهِىَ عَلَىَّ وَمِثْلُهَا مَعَهَا ». ثُمَّ قَالَ « أَمَا شَعَرْتَ أَنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ أَوْ صِنْوُ الأَبِ ».
1982 حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمر (رض) کو زکوۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا تو ابن جمیل ‘ خالد بن ولید اور حضرت عباس (رض) نے زکوۃ ادا کرنے سے انکار کردیا (جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس بارے میں بتایا گیا) تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ابن جمیل نے یہ حرکت اس لیے کی ہے ‘ پہلے وہ غریب تھا تو اللہ تعالیٰ نے اسے خوشحال کردیا ہے جہاں تک خالد کا تعلق ہے تو تم نے اس کے ساتھ زیادتی کی ہے کیونکہ اس نے اپنی زرہیں اور سازوسامان پہلے ہی اللہ کی راہ میں وقف کردیئے ہوئے ہیں جہاں تک حضرت عباس (رض) کا تعلق ہے تو وہ اللہ کے رسول کے چچا ہیں ‘ ان کی ادائیگی میرے ذمے ہوگی اور اس کے ساتھ مزید اتنی ہی ادائیگی ہوگی ‘ پھر آپ نے ارشاد فرمایا کیا تمہیں پتا نہیں ہے ‘ آدمی کا چچا اس کے باپ کی جگہ ہوتا ہے۔