2038 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ زِيَادِ بْنِ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِىِّ عَنْ زِيَادِ بْنِ الْحَارِثِ الصُّدَائِىِّ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَهُوَ يَبْعَثُ إِلَى قَوْمِى جَيْشًا فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ احْبِسْ جَيْشَكَ فَأَنَا لَكَ بِإِسْلاَمِهِمْ وَطَاعَتِهِمْ وَكَتَبْتُ إِلَى قَوْمِى فَجَاءَ إِسْلاَمُهُمْ وَطَاعَتُهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « يَا أَخَا صُدَاءٍ الْمُطَاعَ فِى قَوْمِهِ » قَالَ قُلْتُ بَلْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْهِمْ وَهَدَاهُمْ. قَالَ ثُمَّ جَاءَهُ رَجُلٌ يَسْأَلُهُ عَنِ الصَّدَقَاتِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَمْ يَرْضَ فِى الصَّدَقَاتِ بِحُكْمِ نَبِىٍّ وَلاَ غَيْرِهِ حَتَّى جَزَّأَهَا ثَمَانِيَةَ أَجْزَاءٍ فَإِنْ كُنْتَ مِنْ أَهْلِ تِلْكَ الأَجْزَاءِ أَعْطَيْتُكَ ».
2038 حضرت زیادبن حارث صدائی (رض) بیان کرتے ہیں میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضرہوا ‘ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس وقت میری قوم کی طرف ایک لشکر روانہ کرنے والے تھے ‘ میں نے عرض کی یارسول اللہ ! آپ اپنے لشکر کو روک لیں ‘ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ضمانت دیتا ہوں کہ وہ لوگ اسلام قبول کرلیں گے اور فرمان برداری بھی کریں گے ‘ میں اپنی قوم کو خط لکھتا ہوں وہ لوگ اسلام قبول کرتے ہوئے اور فرمان برداری کرتے ہوئے آجائیں گے۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اے صداء قبیلے سے تعلق رکھنے والے شخص ! جس کی قوم اس کی بات مانتی ہے۔ راوی کہتے ہیں میں نے عرض کی نہیں ! بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں پر احسان کیا ہے ‘ انھیں ہدایت نصیب کی ہے۔
راوی بیان کرتے ہیں پھر ایک شخص نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے زکوۃ کی رقم مانگی تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے فرمایا اللہ تعالیٰ زکوۃ کے بارے می کسی بھی نبی یا کسی بھی دوسرے شخص کے فیصلے سے اس وقت تک راضی نہیں ہوتا جب تک وہ شخص اس زکوۃ کو آٹھ اجزاء میں تقسیم نہ کردے ‘ اگر تم ان اجزء کے اہل ہو ‘ تو میں تمہیں دے دیتاہوں۔