2039 - حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ الأَصْبَهَانِىُّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ هَارُونَ حَدَّثَنَا أَبُو مَسْعُودٍ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِىُّ عَنْ أَبِى سِنَانٍ عَنْ أَبِى إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ حَدَّثَنَا أَبُو مَسْعُودٍ قَالَ وَحَدَّثَنِى أَبُو يَعْقُوبَ عَنِ ابْنِ مَهْدِىٍّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِى إِسْحَاقَ عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ أَنَّ قَوْمًا مِنْ أَهْلِ الشَّامِ أَتَوْا عُمَرَ فَقَالُوا إِنَّا أَصَبْنَا أَمْوَالاً وَخَيْلاً وَرَقِيقًا وَإِنَّا نُحِبُّ أَنْ يَكُونَ لَنَا فِيهِ زَكَاةٌ وَطَهُورٌ. فَقَالَ مَا فَعَلَهُ صَاحِبَاىَ فَأَفْعَلُهُ . قَالَ إِسْحَاقُ مَا فَعَلَهُ مَنْ كَانَ قَبْلِى فَأَفْعَلُهُ. فَاسْتَشَارَ النَّاسَ فَكَانَ فِيمَنِ اسْتَشَارَ عَلَىٌّ رضى الله عنه فَقَالَ حَسَنٌ إِنْ لَمْ يَكُنْ جِزْيَةً يُؤْخَذُ بِهَا مِنْ بَعْدِكَ . قَالَ إِسْحَاقُ إِنْ لَمْ يَكُنْ مُرَتَّبَةً لِمَنْ بَعْدَكَ - فَوَضَعَ عَلَى كُلِّ فَرَسٍ دِينَارًا .
2039 حضرت حارثہ بن مضرب (رض) بیان کرتے ہیں شام سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ حضرت عمر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ انھوں نے بتایا ہمیں کچھ اموال ‘ چھوڑے اور غلام حاصل ہوئے ہیں ‘ ہم یہ چاہتے ہیں ‘ ان میں سے زکوۃ کریں تاکہ یہ پاک ہوجائیں تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا میرے دونوں آقاؤں نے جو کیا ہے میں ویسا ہی کروں گا۔
اسحاق نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں ‘ مجھ سے پہلے نے جو کیا ہے ‘ میں بھی ویساہی کروں گا۔ پھر حضرت عمر (رض) نے لوگوں سے اس بارے میں مشورہ کیا ‘ جن لوگوں سے مشورہ کیا ان میں حضرت علی (رض) بھی شامل تھے ‘ انھوں نے فرمایا یہ ٹھیک ہے اگر اسے ایساجزیہ نہ بنایا جائے جو آپ کے بعد بھی وصول کیا جائے۔
اسحاق نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں اگر اسے اس ترتیب کے ساتھ نہ رکھاجائے کہ آپ کے بعد والابی اسے وصول کرے (تو یہ ٹھیک ہے) ۔
(راوی کہتے ہیں ) تو حضرت عمر (رض) نے ایک گھوڑے کی طرف سے ایک دینار کی ادائیگی لازمی قراردی۔