2098 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ صَالِحٍ الْخَيَّاطُ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ قَالَ قُلْتُ لِمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ أَعْطِنِى مُدَّ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فَدَعَا بِهِ فَجَاءَ بِهِ الْغُلاَمُ فَأَعْطَانِيهِ فَأَرَيْتُهُ مَالِكًا فَقُلْتُ هَذَا هُوَ قَالَ نَعَمْ هُوَ مُدُّ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- ثُمَّ قَالَ لَمْ أُدْرِكِ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- وَهَذَا الَّذِى يُتَحَرَّى بِهِ مُدُّ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم-. قُلْتُ بِهَذَا تُعْطِى زَكَاةَ الْعُشُورِ وَالصَّدَقَاتِ وَالْكَفَّارَاتِ قَالَ نَعَمْ نَحْنُ نُعْطِى بِهِ . قُلْتُ فَأَرَادَ رَجُلٌ أَنْ يُعْطِىَ زَكَاةَ رَمَضَانَ وَكَفَّارَةَ الْيَمِينِ بِمُدٍّ هُوَ أَكْبَرُ مِنْ هَذَا قَالَ لاَ وَلَكِنْ لِيُعْطِ بِهَذَا الْمُدِّ ثُمَّ لْيَزِدْ بَعْدُ مَا شَاءَ.
2098 بشر بن عمربیان کرتے ہیں میں نے امام مالک سے درخواست کی کہ آپ مجھے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مد (مخصوص پیمانہ) عطاء کریں ‘ امام مالک نے وہ منگوایا ‘ ایک غلام وہ لے کر آیا اور وہ اس نے انھیں دے دیا ‘ میں نے امام مالک کو وہ دکھایا اور پوچھا یہ وہی ہے ؟ انھوں نے جواب دیا جی ہاں ! یہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مد ہے ‘ پھر انھوں نے فرمایا یہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وہ مخصوص پیمانہ نہیں ہے جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خود استعمال کرتے تھے ‘ بلکہ یہ اس کی پیمائش کے مطابق پیمانہ ہے۔ (راوی کہتے ہیں ) میں نے دریافت کیا کیا آپ لوگ اپنی زکوۃ ‘ صدقات ‘ کفارہ جات وغیرہ اسی کے ذریعے ادا کرتے ہیں انھوں نے جواب دیا جی ہاں ! ہم اسی کے حساب سے ادائیگی کرتے ہیں ‘ میں نے کہا ایک شخص صدقہ فطر دینا چاہتا ہے یا قسم کا کفارہ مد کے حساب سے دینا چاہتا ہے (جو اس سے بڑا ہوتا ہے تو کیا وہ ادا ہوجائے گا) ؟ انھوں نے کہا نہیں ! اسے چاہیے کہ وہ اس مد کے حساب سے ادائیگی کرے ‘ پھر اس کے بعد جتنا مزید چاہے وہ دیدے۔