2099 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَشْقَرُ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى الطَّائِىُّ بِمَكَّةَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَعِيدٍ الْخُرَاسَانِىُّ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِىُّ قَالَ قُلْتُ لِمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ كَمْ وَزْنُ صَاعِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ خَمْسَةُ أَرْطَالٍ وَثُلُثٌ بِالْعِرَاقِىِّ أَنَا حَزَرْتُهُ.
قُلْتُ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ خَالَفْتَ شَيْخَ الْقَوْمِ . قَالَ مَنْ هُوَ قُلْتُ أَبُو حَنِيفَةَ يَقُولُ ثَمَانِيَةُ أَرْطَالٍ فَغَضِبَ غَضَبًا شَدِيدًا وَقَالَ قَاتَلَهُ اللَّهُ مَا أَجْرَأَهُ عَلَى اللَّهِ ثُمَّ قَالَ لِبَعْضِ جُلَسَائِهِ يَا فُلاَنُ هَاتِ صَاعَ جَدِّكَ وَيَا فُلاَنُ هَاتِ صَاعَ عَمِّكَ وَيَا فُلاَنُ هَاتِ صَاعَ جَدَّتِكَ قَالَ إِسْحَاقُ فَاجْتَمَعَتْ آصُعٌ فَقَالَ مَالِكٌ مَا تَحْفَظُونَ فِى هَذِهِ فَقَالَ هَذَا حَدَّثَنِى أَبِى عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ كَانَ يُؤَدِّى بِهَذَا الصَّاعِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَقَالَ الآخَرُ حَدَّثَنِى أَبِى عَنْ أَخِيهِ أَنَّهُ كَانَ يُؤَدِّى بِهَذَا الصَّاعِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَقَالَ الآخَرُ حَدَّثَنِى أَبِى عَنْ أُمَّهِ أَنَّهَا أَدَّتْ بِهَذَا الصَّاعِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-. قَالَ مَالِكٌ أَنَا حَزَرْتُ هَذِهِ فَوَجَدْتُهَا خَمْسَةَ أَرْطَالٍ وَثُلُثًا. قُلْتُ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ أُحَدِّثُكَ بِأَعْجَبَ مِنْ هَذَا عَنْهُ إِنَّهُ يَزْعُمُ أَنَّ صَدَقَةَ الْفِطْرِ نِصْفُ صَاعٍ وَالصَّاعُ ثَمَانِيَةُ أَرْطَالٍ فَقَالَ هَذِهِ أَعْجَبُ مِنَ الأُولَى يُخْطِئُ فِى الْحَزْرِ وَيُنْقِصُ مِنَ الْعَطِيَّةِ لاَ بَلْ صَاعٌ تَامٌّ عَنْ كُلِّ إِنْسَانٍ هَكَذَا أَدْرَكْنَا عُلَمَاءَنَا بِبَلَدِنَا.
2099 اسحاق بن سلمان بیان کرتے ہیں میں نے امام مالک سے پوچھا اے ابوعبداللہ ! نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مخصوص صاع کا وزن کتنا تھا ؟ تو انھوں نے جواب دیا عراقی رطل کے حساب سے پانچ رطل اور ایک رطل کا ایک تہائی حصہ ‘ میں نے اسے ناپا ہے ‘ میں نے کہا اے ابوعبداللہ ! آپ نے اپنے زمانے کے بزرگ کے خلاف فتوی دیا ہے ‘ انھوں نے دریافت کیا وہ کون ہیں ؟ میں نے کہا امام ابوحنیفہ ! کیونکہ وہ تو یہ کہتے ہیں یہ آٹھ رطل کا ہوتا ہے ‘ تو امام مالک غصے میں آگئے اور بولے اللہ تعالیٰ انھیں خراب کرے ! انھوں نے اللہ تعالیٰ کے بارے میں کیسی جرأت کا مظاہرہ کیا ہے ‘ پھر انھوں نے وہاں بیٹھے ہوئے افراد میں سے ایک صاحب سے کہا اے فلاں ! تم اپنے جدامجدکا صاع لے کر آؤ ‘ اے فلاں ! تم اپنے چچا کا صاع لے کر آؤ ‘ اے فلاں ! تم اپنی دادی کا صاع لے کر آؤ۔
اسحاق نامی راوی بیان کرتے ہیں وہاں مختلف صاع اکٹھے ہوگئے ‘ امام مالک نے فرمایا؛تم لوگ اسے کس حساب سے محفوظ رکھتے ہو (یعنی اس کی نسبت کیا ہے) ؟ تو ان صاحب نے بتایا میرے والد نے اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے انھوں نے اس صاع کے مطابق نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ادائیگی کی تھی۔
دوسرے صاحب نے بتایا میرے والد نے اپنے بھائی کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے انھوں نے اس صاع کے مطابق نبی ا کرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ادائیگی کی تھی۔
تیسرے نے کہا میرے والد نے مجھے یہ بات بتائی ہے ‘ انھوں نے اپنی والدہ کے حوالہ سے یہ بات نقل کی ہے انھوں نے اس صاع کے مطابق نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ادائیگی کی تھی۔ امام مالک بیان کرتے ہیں جب میں نے اس کو ماپاتویہ پانچ رطل اور ایک رطل کا ایک تہائی حصہ تھا۔
راوی کہتے ہیں میں نے کہا اے ابوعبداللہ ! میں آپ کو ان کے (یعنی امام ابوحنیفہ کے) حوالے سے اس سے بھی زیادہ حیران کن بات بتاتاہوں ‘ وہ یہ کہتے ہیں صدقہ فطر میں نصف صاع ادائیگی کی جائے گی اور ایک صاع آٹھ رطل کا ہوتا ہے ‘ تو امام مالک نے بتایا یہ پہلے سے بھی زیادہ حیران کن بات ہے ‘ انھوں نے اسے مانپے میں غلطی کی ہے اور ادائیگی میں کمی کردی ہے ‘ نہیں ! ہر انسان کی طرف سے مکمل صاع ادا کیا جائے گا ‘ ہم نے اپنے شہر (مدینہ منورہ) کے علماء کو یہی کہتے ہوئے سنا ہے۔