2165 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ الأَشْجَعِىُّ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ الْحَارِثِ الْجَدَلِىُّ جَدِيلَةُ قَيْسٍ أَنَّ أَمِيرَ مَكَّةَ خَطَبَنَا فَنَشَدَ النَّاسَ فَقَالَ مَنْ رَأَى الْهِلاَلَ لِيَوْمِ كَذَا وَكَذَا ثُمَّ قَالَ عَهِدَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَنْ نَنْسُكَ فَإِنْ لَمْ نَرَهُ وَشَهِدَ شَاهِدَا عَدْلٍ نَسَكْنَا بِشَهَادَتِهِمَا. قَالَ فَسَأَلْتُ الْحُسَيْنَ بْنَ الْحَارِثِ مَنْ أَمِيرُ مَكَّةَ قَالَ لاَ أَدْرِى ثُمَّ لَقِيَنِى بَعْدُ فَقَالَ هُوَ الْحَارِثُ بْنُ حَاطِبٍ أَخُو مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ. هَذَا إِسْنَادٌ مُتَّصِلٌ صَحِيحٌ.
2165 حسین بن حارث جدلی بیان کرتے ہیں مکہ کے گورنرنے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے لوگوں کو یہ قسم دی اور دریافت کیا کس شخص نے ” فلاں پہلی “ کا چاند دیکھا تھا ‘ پھر اس نے بتایا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں (ہدایت کی تھی کہ ہم عید الاضحی کے دن قربانی کریں) اگر ہم خود چاند نہ دیکھیں اور دوعادل گواہ اس بات کی گواہی دیں تو ہم ان دونوں کی گواہی پر قربانی (یعنی عیدالاضحی) کرلیں۔ راوی بیان کرتے ہیں میں نے حسین بن حارث سے دریافت کیا کہ وہ گورنرکون شخص تھا ‘ تو انھوں نے جواب دیا مجھے معلوم نہیں ‘ اس کے بعد میری ملاقات ہوئی ‘ تو انھوں نے بتایا وہ صاحب حارث بن حاطب تھے ‘ جو حضرت محمد بن حاطب کے بھائی تھے۔ اس کی سند متصل ہے اور یہ روایت مستند ہے۔