2169 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِىٍّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الأَعْلَى عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِى لَيْلَى أَنَّ عُمَرَ أَجَازَ شَهَادَةَ رَجُلٍ وَاحِدٍ فِى رُؤْيَةِ الْهِلاَلِ فِى فِطْرٍ أَوْ أَضْحًى . كَذَا رَوَاهُ عَبْدُ الأَعْلَى عَنِ ابْنِ أَبِى لَيْلَى. وَعَبْدُ الأَعْلَى ضَعِيفٌ وَابْنُ أَبِى لَيْلَى لَمْ يُدْرِكْ عُمَرَ . وَخَالَفَهُ أَبُو وَائِلٍ شَقِيقُ بْنُ سَلَمَةَ رَوَاهُ عَنْ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ لاَ تُفْطِرُوا حَتَّى يَشْهَدَ شَاهِدَانِ. حَدَّثَ بِهِ الأَعْمَشُ وَمَنْصُورٌ عَنْهُ.
2169 عبدالرحمن بن ابولیلیٰ بیان کرتے ہیں عیدالفطر اور عیدالاضحی کا چاند دیکھنے کے بارے میں حضرت عمر (رض) نے ایک شخص کی گواہی کو قبول کیا تھا۔
عیدالاعلیٰ نامی راوی نے ابن ابی لیلیٰ کے حوالے سے اسی طرح نقل کیا ہے ‘ لیکن عبدالاعلیٰ نامی راوی ضعیف ہے ‘ اسی طرح ابن ابی لیلیٰ نامی راوی نے حضرت عمر (رض) کا زمانہ نہیں پایا ہے۔
ابو وائل ‘ شقیق بن سلمہ نے اس سے مختلف روایت نقل کی ہے ‘ انھوں نے حضرت عمر (رض) کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے ‘ حضرت عمر (رض) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے ” تم لوگ روزے رکھنے اس وقت تک بندنہ کرو جب تک دو آدمی گواہی نہ دیں (کہ انھوں نے چاند دیکھا ہے) “۔
اس روایت کو اعمش نے اور ان کے حوالے سے منصور نے روایت کیا ہے۔