2170 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ حَرْبٍ وَسَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ شَقِيقٍ قَالَ جَاءَنَا كِتَابُ عُمَرَ وَنَحْنُ بِخَانِقِينَ وَقَالَ فِى كِتَابِهِ إِنَّ الأَهِلَّةَ بَعْضُهَا أَكْبَرُ مِنْ بَعْضٍ فَإِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلاَلَ نَهَارًا فَلاَ تُفْطِرُوا حَتَّى يَشْهَدَ شَاهِدَانِ. وَرَوَاهُ شُعْبَةُ عَنِ الأَعْمَشِ فَقَالَ إِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلاَلَ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ فَلاَ تُفْطِرُوا حَتَّى يَشْهَدَ شَاهِدَانِ أَنَّهُمَا رَأَيَاهُ بِالأَمْسِ. هَذَا أَصَحُّ إِسْنَادًا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِى لَيْلَى وَقَدْ تَابَعَ الأَعْمَشَ مَنْصُورٌ كَتَبْنَاهُ بَعْدَ هَذَا.
2170 شقیق بن سلمہ بیان کرتے ہیں ہمارے پاس حضرت عمر (رض) کا خط آیا ‘ ہم اس وقت خانقین میں موجود تھے ‘ حضرت عمر (رض) نے اپنے خط میں یہ فرمایا تھا چاند بعض اوقات چھوٹابڑا ہوتا ہے تو جب تم دن کے وقت چاند دیکھو تو عیدالفطر اس وقت تک نہ کروجب تک دو آدمی گواہی نہ دیں۔ اس روایت کو شعبہ نے اعمش کے حوالے سے نقل کیا ہے۔
حضرت عمر (رض) نے فرمایا تھا جب تم دن کے ابتدائی حصے میں پہلی کا چاند دیکھ لو ‘ تو عیدا س وقت تک نہ کروجب تک دو آدمی گواہی نہ دیں کہ انھوں نے گزشتہ رات چاند دیکھ لیا تھا۔ یہ روایت ابن ابی لیلیٰ کی روایت کے مقابلے میں زیادہ مستند ہے۔