2171 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مُسَلَّمٍ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو أُمَيَّةَ وَالْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْجُنَيْدِ قَالُوا حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالُوا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِى وَائِلٍ قَالَ أَتَانَا كِتَابُ عُمَرَ بِخَانِقِينَ إِنَّ الأَهِلَّةَ بَعْضُهَا أَعْظَمُ مِنْ بَعْضٍ فَإِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلاَلَ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ فَلاَ تُفْطِرُوا حَتَّى يَشْهَدَ شَاهِدَانِ أَنَّهُمَا رَأَيَاهُ بِالأَمْسِ.
2171 ابو وائل بیان کرتے ہیں ہمارے پاس (خانقین کے مقام پر) حضرت عمر (رض) کا خط آیا (جس میں یہ تحریر تھا) پہلی کا چاند بعض اوقات چھوٹا بڑا ہوتا ہے تو جب تم دن کے ابتدائی حصے میں چاند دیکھ لوتو اس وقت تک عیدنہ کرو ‘ جب تک دو آدمی اس بات کی گواہی نہ دیں کہ وہ گزشتہ رات اس چاند کو دیکھ چکے ہیں۔