hadith book logo

Sunan Al Daraqutni: Hadith 2206

.

سنن الدارقطني

2206
Sunan Al Daraqutni
2206 - حَدَّثَنَا أَبُو طَالِبٍ الْكَاتِبُ عَلِىُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْجَهْمِ حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ مُسْلِمٍ الطُّوسِىُّ ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِىُّ قَالاَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعُمَيْسِ عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِى جُحَيْفَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- آخَى بَيْنَ سَلْمَانَ وَبَيْنَ أَبِى الدَّرْدَاءِ - قَالَ - فَجَاءَ سَلْمَانُ يَزُورُ أَبَا الدَّرْدَاءِ فَإِذَا أُمُّ الدَّرْدَاءِ مُتَبَذِّلَةٌ قَالَ مَا شَأْنُكِ قَالَتْ إِنَّ أَخَاكَ يَقُومُ اللَّيْلَ وَيَصُومُ النَّهَارَ وَلَيْسَ لَهُ حَاجَةٌ فِى نِسَاءِ الدُّنْيَا فَجَاءَ أَبُو الدَّرْدَاءِ فَرَحَّبَ بِهِ سَلْمَانُ وَقَرَّبَ إِلَيْهِ طَعَامًا فَقَالَ لَهُ سَلْمَانُ اطْعَمْ. فَقَالَ إِنِّى صَائِمٌ. فَقَالَ أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ لَتُفْطِرَنَّهْ . قَالَ مَا أَنَا بِآكِلٍ حَتَّى تَأْكُلَ فَأَكَلَ مَعَهُ ثُمَّ بَاتَ عِنْدَهُ حَتَّى إِذَا كَانَ اللَّيْلُ أَرَادَ أَبُو الدَّرْدَاءِ أَنْ يَقُومَ فَمَنَعَهُ سَلْمَانُ وَقَالَ لَهُ إِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَلِرَبِّكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَلأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا صُمْ وَأَفْطِرْ وَصَلِّ وَنَمْ وَائْتِ أَهْلَكَ وَأَعْطِ كُلَّ ذِى حَقٍّ حَقَّهُ. فَلَمَّا كَانَ فِى وَجْهِ الصُّبْحِ قَالَ قُمِ الآنَ إِنْ شِئْتَ فَقَامَا فَتَوَضَّآ ثُمَّ رَكَعَا ثُمَّ خَرَجَا إِلَى الصَّلاَةِ فَدَنَا أَبُو الدَّرْدَاءِ لِيُخْبِرَ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِالَّذِى أَمَرَهُ سَلْمَانُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ إِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا ». مِثْلَ مَا قَالَ سَلْمَانُ. لَفْظُ أَبِى طَالِبٍ.
2206 عون بن ابوحجیفہ اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت سلیمان فارسی اور حضرت ابودرداء (رض) کو ایک دوسرے کا (منہ بولابھائی) بنادیا۔ راوی بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ حضرت سلیمان حضرت ابودرداء سے ملنے کے لیے آئے توسیدہ ام درداء کو خراب حالت میں دیکھا تو دریافت کیا آپ کو کیا ہوا ہے ؟ انھوں جواب دیا آپ کے بھائی رات بھرنفل پڑھتے رہتے ہیں ‘ دن کے وقت روزہ رکھتے ہیں ‘ انھیں دنیا کی اور بیوی کی کوئی ضرورت نہیں ہے ‘ پھر حضرت ابودرداء (رض) تشریف لے آئے ‘ انھوں نے حضرت سلیمان رضی الہ عنہ کو خوش آمدید کہا اور ان آگے کھانارکھاتو حضرت سلیمان (رض) نے ان سے کہا آپ بھی کھایئے ‘ انھوں نے جواب دیا میں نے روزہ رکھا ہو حضرت سلمان (رض) نے کہا میں آپ کو قسم دیتا ہوں کہ آپ روزہ توڑدیں ‘ حضرت سلمان (رض) نے یہ بھی کہا میں اس وقت تک نہیں کھاؤں گا جب تک آپ نہیں کھائیں گے ‘ تو حضرت ابودرداء (رض) نے ان کے ساتھ کھانا کھالیاحضرت سلمان (رض) رات کے وقت ان کے ہاں گئے۔ جب رات کا وقت ہوا تو حضرت ابودرداء (رض) نے ارا ٤١٠ کہ وہ نوافل ادا کرنے شروع کریں ‘ تو حضرت سلمان نے انھیں روک دیا اور ان سے کہا کہ آپ کے جسم کا بھی آپ پر حق ہے آپ کے پروردگار کا بھی آپ پر حق ہے ‘ آپ کی بیوی کا بھی آپ پر حق ہے ‘ آپ نفلی روزہ رکھیں بھی اور کسی دن چھوڑ بھی دیں ‘(نفلی نماز) ادا بھی کریں اور سو بھی جایا کریں ‘ اپنی اہلیہ کے پاس بھی جایاکریں ‘ ہر حقدار کو اس کا حق دیا کریں۔ جب صبح کا وقت قریب آیاتوحضرت سلمان (رض) نے کہا اب آپ اٹھیں ‘ اگر آپ (نوافل اداکرناچا ہیں) یہ دونوں حضرات اٹھے ‘ انھوں نے نوافل اداکیے ‘ پھر (فجر کی نماز) ادا کرنے کے لیے چلے گئے۔ حضرت ابودرداء (رض) ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے تاکہ آپ کو اس چیز کے بارے میں بتائیں جو حضرت سلمان (رض) نے ان سے کہا تھا ‘ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا اے ابودرداء ! تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے ‘ آپ نے وہی بات ارشاد فرمائی جو حضرت سلمان نے ارشاد فرمائی تھی۔ روایت کے یہ الفاظ ابوطالب نامی راوی کے ہیں۔