hadith book logo

Sunan Al Daraqutni: Hadith 2207

.

سنن الدارقطني

2207
Sunan Al Daraqutni
2207 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ الأَزْرَقُ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِى الْحَجَّاجِ الْمِنْقَرِىُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِىُّ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ كَانَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- يَأْتِينَا فَيَقُولُ « هَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ غَدَاءٍ ». فَإِنْ قُلْنَا نَعَمْ تَغَدَّى وَإِنْ قُلْنَا لاَ قَالَ « إِنِّى صَائِمٌ ». وَإِنَّهُ أَتَانَا ذَاتَ يَوْمٍ وَقَدْ أُهْدِىَ لَنَا حَيْسٌ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ قَدْ أُهْدِىَ لَنَا حَيْسٌ وَإِنَّا قَدْ خَبَأْنَاهُ لَكَ. قَالَ « أَمَا إِنِّى أَصْبَحْتُ صَائِمًا ». فَأَكَلَ. هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ .
2207 ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) بیان کرتی ہیں بعض اوقات نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے ہاں تشریف لاتے اور دریافت کرتے کیا تمہارے پاس کھانے کے لیے کچھ ہے ؟ اگر ہم جواب دیتے جی ہاں ! تو آپ وہ کھالیتے اور اگر ہم عرض کرتے جی نہیں ! تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں میں روزہ رکھ لیتاہوں۔ ایک مرتبہ آپ ہمارے ہاں تشریف لائے تو ہمیں تحفہ کے طورپر (حیس) بھیجا گیا تھا ‘ میں نے عرض کی یارسول اللہ ! ہمیں تحفے کے طورپرحیس دیا گیا ہے ‘ جو میں نے آپ کے لیے سنبھال کے رکھا ہے ‘ تو آپ نے فرمایا میں نے تو صبح روزے کی نیت کی تھی ‘ لیکن پھر آپ نے اسے کھا بھی لیا۔ اس حدیث کی سند صحیح ہے۔