2208 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَحَامِلِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَبَّاسِ الْبَاهِلِىُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ قَالَ حَدَّثَنِيهِ طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى عَنْ عَمَّتِهِ عَائِشَةَ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ دَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ « إِنِّى أُرِيدُ الصَّوْمَ » . وَأُهْدِىَ لَهُ حَيْسٌ. فَقَالَ « إِنِّى آكِلٌ وَأَصُومُ يَوْمًا مَكَانَهُ ». لَمْ يَرْوِهِ بِهَذَا اللَّفْظِ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ غَيْرُ الْبَاهِلِىِّ وَلَمْ يُتَابَعْ عَلَى قَوْلِهِ « وَأَصُومُ يَوْمًا مَكَانَهُ »
وَلَعَلَّهُ شُبِّهَ عَلَيْهِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ لِكَثْرَةِ مَنْ خَالَفَهُ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ .
2208 ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) بیان کرتی ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پاس تشریف لائے اور کہا میں نے روزہ رکھنے کا ارادہ کیا ہے ‘ پھر آپ کی خدمت میں حیس لایا گیا ‘ تو آپ نے ارشاد فرمایا میں اس میں سے کھالیتا ہوں اور اس روزے کی جگہ پھر کسی دن روزہ رکھ لوں گا۔
ان الفاظ میں اس روایت کو صرف باہلی نے نقل کیا ہے ‘ کسی اور نے نقل نہیں کیا ہے اور کسی نے اس کی متابعت نہیں کی ہے ‘ یعنی ان الفاظ کی ” اس کی جگہ پھر روزہ رکھ لوں گا۔
شاید یہ بات ان کے لیے مشتبہ ہوگئی ہو ‘ باقی اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے ‘ کیونکہ دیگر راویوں نے ابن عیینہ سے ان الفاظ کو نقل کرنے میں اختلاف کیا ہے۔