2226 - حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الزَّيَّاتُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُخَرِّمِىُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ سَيْفِ بْنِ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ قَيْسَ بْنَ سَعْدٍ حَدَّثَنِى دَاوُدُ بْنُ أَبِى عَاصِمٍ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ أَنَّ عُمَرَ خَرَجَ عَلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ مَا تَرَوْنَ فِى شَىْءٍ صَنَعْتُهُ الْيَوْمَ أَصْبَحْتُ صَائِمًا فَمَرَّتْ بِى جَارِيَةٌ فَأَعْجَبَتْنِى فَأَصَبْتُ مِنْهَا فَعَظَّمَ الْقَوْمُ عَلَيْهِ مَا صَنَعَ وَعَلِىٌّ رضى الله عنه سَاكِتٌ فَقَالَ مَا تَقُولُ قَالَ أَتَيْتَ حَلاَلاً وَيَوْمٌ مَكَانَ يَوْمٍ. قَالَ أَنْتَ خَيْرُهُمْ فُتْيَا .
2226 داؤد بن ابوعاصم بیان کرتے ہیں انھوں نے سعید بن مسیب کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ایک مرتبہ حضرت (رض) اپنے ساتھیوں کے پاس تشریف لائے اور دریافت کیا میں نے آج جو حرکت کی ہے ‘ اس کے بارے میں آیالوگوں کی کیا رائے ہے ؟ صبح میں نے روزہ رکھا تھا ‘ پھر میرے پاس سے کنیزگزری ‘ مجھے وہ اچھی لگی تو میں نے اس کے ساتھ صحبت کرلی ‘ لوگوں کو ان کی یہ حرکت بہت غلط محسوس ہوئی جبکہ حضرت علی (رض) خاموش رہے ‘ حضرت عمر (رض) نے دریافت کیا آپ کیا کہتے ہیں ؟ انھوں نے فرمایا آپ نے ایک حلال کام کا ارتکاب کیا ہے اور اس دن کے بدلے میں دوسرے دن روزہ رکھ لیں ‘ تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا آپ نے ان سب سے بہتر فتوی دیا ہے۔