2343 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ عَنِ ابْنِ أَبِى نَجِيحٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ (وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ) وَاحِدٍ (فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا) قَالَ زَادَ مِسْكِينًا آخَرَ فَهَوَ خَيْرٌ لَهُ قَالَ وَلَيْسَتْ بِمَنْسُوخَةٍ إِلاَّ أَنَّهُ رُخِّصَ لِلشَّيْخِ الْكَبِيرِ الَّذِى لاَ يَسْتَطِيعُ الصِّيَامَ وَأُمِرَ أَنْ يُطْعِمَ الَّذِى يَعْلَمُ أَنَّهُ لاَ يُطِيقُهُ. إِسْنَادٌ صَحِيحٌ ثَابِتٌ .
2343 حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں یہ بات کی ہے ” اور وہ لوگ جو اس کی طاقت نہیں رکھتے ‘ ان کا فدیہ ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہے۔ اس سے مراد ایک مسکین ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے ” توجوشخص بھلائی نفلی طورپرکرے۔
حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں یعنی جو ایک اور مسکین کو بھی کھانا کھلادے تو یہ زیادہ بہت رہے۔ وہ یہ فرماتے ہیں یہ حکم منسوخ نہیں ہے ‘ البتہ یہ رخصت اس بوڑھے آدمی کو دی گئی ہے جو روزہ رکھنے کی استطاعت نہیں رکھتا اور کھانا کھلانے یہ حکم اس شخص کے لیے ہے جو یہ جانتا ہے ‘ اب (وہ کبھی بھی) روزہ رکھنے کی طاقت نہیں رکھے گا۔ اس کی سند صحیح ہے اور ثابت ہے۔