2344 - حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ وَرْقَاءُ بْنُ عُمَرَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِى قَوْلِهِ (وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ) قَالَ يُطِيقُونَهُ يُكَلَّفُونَهُ (فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ ) وَاحِدٍ (فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا) فَزَادَ مِسْكِينًا آخَرَ لَيْسَتْ مَنْسُوخَةً (فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ وَأَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَكُمْ) لاَ يُرَخَّصُ فِى هَذَا إِلاَّ لِلْكَبِيرِ الَّذِى لاَ يُطِيقُ الصِّيَامَ أَوْ مَرِيضٍ لاَ يُشْفَى. وَهَذَا صَحِيحٌ.
2344 حضرت عبداللہ بن عباس (رض) یہ ارشاد فرماتے ہیں (ارشاد باری تعالیٰ ہے ) جو لوگ اس کی طاقت رکھتے ان کا فدیہ ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں جو لوگ اس کی طاقت نہیں رکھتے وہ اس بات کے پابند ہیں وہ ایک مسکین کو کھلاناکھلائیں اور جو شخص نفلی طورپر بھلائی کرنا چاہے تو وہ مزید ایک مسکین کو کھانا کھلادے۔ یہ حکم منسوخ ہے ‘ بلکہ یہ اس کے لیے زیادہ بہتر ہے اور اگر تم روزہ رکھ لو تو یہ زیادہ بہتر ہے تو اس معاملے میں رخصت صرف بوڑھے آدمی کو دی گئی ہے جو روزہ رکھنے کی طاقت نہیں رکھتا اور اس مریض کو دی گئی ہے جو یہ جانتا ہے وہ اب کبھی بھی شفاء یاب نہیں ہوگا۔ اس کی سند صحیح ہے۔