2345 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَكِيلُ أَبِى صَخْرَةَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا شِبْلٌ عَنِ ابْنِ أَبِى نَجِيحٍ عَنْ مُجَاهِدٍ وَعَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ (وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ) وَاحِدٍ (فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا) زَادَ طَعَامَ مِسْكِينٍ آخَرَ (فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ وَأَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَكُمْ) وَلاَ يُرَخَّصُ إِلاَّ لِلْكَبِيرِ الَّذِى لاَ يُطِيقُ الصَّوْمَ أَوْ مَرِيضٍ يَعْلَمُ أَنَّهُ لاَ يُشْفَى. وَهَذَا صَحِيحُ الإِسْنَادِ.
2345 حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں (ارشاد باری تعالیٰ ہے ) جو لوگ اس کی طاقت نہیں رکھتے ان کا فدیہ ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہے۔ یعنی ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہے۔ (ارشادباری تعالیٰ ہے)” جو شخص نفلی طور پر بھلائی کرنا چاہیے “ اس کا مطلب ہے وہ مزید ایک مسکین کو کھانا کھلادے۔ (ارشاد باری تعالیٰ ہے)” تو یہ اس کے لیے زیادہ بہتر ہوگا۔
اور اگر تم لوگ روزہ رکھ لوویہ تمہارے لیے زیادہ بہت رہے۔
(حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں) یہ رخصت صرف اس بوڑھے آدمی کو دی گئی ہے جو روزہ رکھنے کی طاقت ہی نہ رکھے یاس بیمار کو دی گئی ہے جو یہ جانتا ہے ‘ اب وہ کسی شفایاب نہیں ہوگا۔ اس کی سند صحیح ہے۔