2363 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِى مَالِكٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلاً أَفْطَرَ فِى رَمَضَانَ فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَنْ يُكَفِّرَ بِعِتْقِ رَقَبَةٍ أَوْ صِيَامِ شَهْرَيْنِ أَوْ إِطْعَامِ سِتِّينَ مِسْكِينًا قَالَ فَقَالَ لاَ أَجِدُ فَأُتِىَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِعَرَقِ تَمْرٍ فَقَالَ « خُذْ هَذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ ». فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّى لاَ أَجِدُ أَحَدًا أَحْوَجَ إِلَيْهِ مِنِّى فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ ثُمَّ قَالَ « كُلْهُ ». تَابَعَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الأَنْصَارِىُّ وَابْنُ جُرَيْجٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِى بَكْرٍ وَأَبُو أُوَيْسٍ وَفُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ وَعُمَرُ بْنُ عُثْمَانَ الْمَخْزُومِىُّ وَيَزِيدُ بْنُ عِيَاضٍ وَشِبْلُ بْنُ عَبَّادٍ وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ مِنْ رِوَايَةِ أَشْهَبَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْهُ وَابْنُ عُيَيْنَةَ مِنْ رِوَايَةِ نُعَيْمِ بْنِ حَمَّادٍ عَنْهُ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ مِنْ رِوَايَةِ عَمَّارِ بْنِ مَطَرٍ عَنْهُ وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِى زِيَادٍ إِلاَّ أَنَّهُ أَرْسَلَهُ عَنِ الزُّهْرِىِّ كُلُّ هَؤُلاَءِ رَوَوْهُ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلاً أَفْطَرَ فِى رَمَضَانَ وَجَعَلُوا كَفَّارَتَهُ عَلَى التَّخْيِيرِ. وَخَالَفَهُمْ أَكْثَرُ مِنْهُمْ عَدَدًا فَرَوَوْهُ عَنِ الزُّهْرِىِّ بِهَذَا الإِسْنَادِ أَنَّ إِفْطَارَ ذَلِكَ الرَّجُلِ كَانَ بِجِمَاعٍ وَأَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- أَمَرَهُ أَنْ يُكَفِّرَ بِعِتْقِ رَقَبَةٍ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَإِطْعَامُ سِتِّينَ مِسْكِينًا مِنْهُمْ عِرَاكُ بْنُ مَالِكٍ وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِى عَتِيقٍ وَمُوسَى بْنُ عُقْبَةَ وَمَعْمَرٌ وَيُونُسُ وَعُقَيْلٌ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ مُسَافِرٍ وَالأَوْزَاعِىُّ وَشُعَيْبُ بْنُ أَبِى حَمْزَةَ وَمَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ وَالنُّعْمَانُ بْنُ رَاشِدٍ وَحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ وَصَالِحُ بْنُ أَبِى الأَخْضَرِ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِى حَفْصَةَ وَعَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عُمَرَ وَإِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى الْعَوْصِىُّ وَهَبَّارُ بْنُ عُقَيْلٍ وَثَابِتُ بْنُ ثَوْبَانَ وَقُرَّةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَزَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ وَبَحْرٌ السَّقَّاءُ وَالْوَلِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَشُعَيْبُ بْنُ خَالِدٍ وَنُوحُ بْنُ أَبِى مَرْيَمَ وَغَيْرُهُمْ.
2363 ۔ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں ، ایک شخص نے رمضان کے مہینے میں روزہ توڑ لیا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے یہ ہدایت کی کہ وہ کفارے کے طور پر ایک غلام آزاد کرے یا دو ماہ کے روزے رکھے یاساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔ راوی بیان کرتے ہیں ، اس شخص نے عرض کی، میرے پاس اس کی گنجائش نہیں ہے ، پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کی خدمت میں کھجوروں کی ایک بوری لائی گئی تو آپ نے ارشاد فرمایا اسے لو، اور اسے صدقہ کرو، اس نے عرض کی یارسول اللہ مجھے اپنے زیادہ ان کا کوئی اور ضرورت مند نہیں معلوم ہے ، تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسکرادیے یہاں تک کہ آپ کے اطراف کے دانت بھی ظاہر ہوئے پھر آپ نے فرمایا اسے تم کھالو۔
بعض راویوں نے اس روایت میں یہ بات نقل کی ہے اس شخص نے رمضان (کا روزہ ) توڑ دیا تھا اور کفارہ دینے کے بارے میں اسے اختیار دیا گیا تھا (کہ وہ مذکورہ بالا تین صورتوں میں سے کسی ایک کو اختیار کرلے) ۔ لیکن اکثر راویوں نے یہ بات نقل کی ہے اس شخص نے صحبت کر کے روزہ توڑا تھا، اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پہلے اسے غلام آزاد کرنے کے ذریعہ کفارہ ادا کرنے کا حکم دیا ، جب اس کے پاس اس کی گنجائش نہیں تھی، تو اسے دو ماہ روزے رکھنے کی ہدایت کی جب اس میں اس کی بھی استطاعت نہیں تھی تو اسے ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کا حکم دیا۔