2364 - حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ خَلَفٍ حَدَّثَنَا أَبُو ثَوْرٍ حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِىِّ أَخْبَرَهُ حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ أَتَى رَجُلٌ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ هَلَكْتُ وَأَهْلَكْتُ. قَالَ « مَا أَهْلَكَكَ » قَالَ وَقَعْتُ عَلَى أَهْلِى فِى رَمَضَانَ. قَالَ « تَجِدُ رَقَبَةً تَعْتِقُهَا ». قَالَ لاَ . قَالَ « صُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ». قَالَ لاَ أَسْتَطِيعُ. قَالَ « فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا ». قَالَ لاَ أَقْدِرُ عَلَيْهِ. فَأُتِىَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ فَقَالَ « تَصَدَّقْ بِهَذَا ». قَالَ عَلَى أَحْوَجَ مِنَّا قَالَ « فَأَطْعِمْهُ عِيَالَكَ ». تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو ثَوْرٍ عَنْ مُعَلَّى بْنِ مَنْصُورٍ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ بِقَوْلِهِ وَأَهْلَكْتُ. وَكُلُّهُمْ ثِقَاتٌ.
2364 ۔ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا میں ہلاک ہوگیا (شاید یہ الفاظ ہیں) میں نے (خود کو) ہلاکت کا شکار کردیا۔ نبی کریم نے دریافت کیا تمہیں کس چیز نے ہلاکت کا شکار کیا، (شاید یہ الفاظ ہیں) وہ بولا میں نے رمضان میں روزے کے دوران اپنی بیوی سے صحبت کرلی، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تمہارے پاس کوئی غلام ہے جسے تم آزاد کرسکو۔ اس نے عرض کی نہیں۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم مسلسل دو ماہ کے روزے رکھو۔ اس نے عرض کی یہ میں نہیں کرسکتا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ، اس نے عرض کی میں اس کی بھی قدرت نہیں رکھتا۔ پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں کجھوروں کی ایک بوری لائی گئی تو آپ نے ارشاد فرمایا اسے صدقہ کردو۔ اس نے عرض کی میں اپنے زیادہ ضرورت مند لوگوں کو (یعنی مجھے سب سے زیادہ ان کی ضرورت ہے) تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم اسے اپنے گھروالوں کو کھلادو۔