hadith book logo

Sunan Al Daraqutni: Hadith 2535

.

سنن الدارقطني

2535
Sunan Al Daraqutni
2535 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى وَأَبُو الأَزْهَرِ وَأَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالُوا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِمِنًى وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّى كُنْتُ أَظُنُّ الْحَلْقَ قَبْلَ النَّحْرِ فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَنْحَرَ . قَالَ « انْحَرْ وَلاَ حَرَجَ ». قَالَ وَجَاءَهُ آخَرُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّى كُنْتُ أَظُنُّ الْحَلْقَ قَبْلَ الرَّمْىِ فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِىَ. قَالَ « ارْمِ وَلاَ حَرَجَ ». قَالَ فَمَا سُئِلَ يَوْمَئِذٍ عَنْ شَىْءٍ قَدَّمَهُ رَجُلٌ وَلاَ أَخَّرَهُ إِلاَّ قَالَ « افْعَلْهُ وَلاَ حَرَجَ ». كَذَا قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِىَ.وَتَابَعَهُ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِى حَفْصَةَ عَنِ الزُّهْرِىِّ وَزَادَ ابْنُ أَبِى حَفْصَةَ فِى حَدِيثِهِ أَفَضْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِىَ. وَلَمْ يُتَابَعْ عَلَيْهِ وَأُرَاهُ وَهِمَ فِيهِ. وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
2535 حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) بیان کرتے ہیں مجھے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں یہ بات یاد ہے ‘ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منی میں اپنی اونٹنی پر موجود تھے ‘ ایک شخص آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضرہوا ‘ اس نے عرض کی یارسول اللہ ! میں یہ سمجھتا تھا ‘ قربانی کرنے سے پہلے سرمنڈوالیاجاتا ہے تو میں نے قربانی کرنے سے پہلے سرمنڈوالیا ہے ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تم اب قربانی کرلو کوئی حرج نہیں ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں ایک اور شخص آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ اس نے عرض کی یارسول اللہ ! میں یہ سمجھتا تھا ‘ کنکریاں مارنے سے پہلے سرمنڈوالینا چاہیے ‘ اس لیے میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے سرمنڈوالیا ہے ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تم اب کنکریاں مارلو ‘ کوئی حرج نہیں ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں اس دن نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جس چیز کے بارے میں بھی سوال کیا گیا یعنی آدمی نے کوئی کام پہلے کرلیا یا بعد میں کیا ‘ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہی فرمایا اب کرلو ‘ کوئی حرج نہیں ہے۔
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے ‘ تاہم اس میں یہ الفاظ اضافی ہیں ” کنکریاں مارنے سے پہلے روانہ ہوگیا “۔
ان الفاظ میں اس راوی کی متابعت نہیں کی گئی اور میرا خیال ہے ‘ راوی کو یہ الفاظ نقل کرنے میں وہم ہوا ہے۔