2536 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْهَرِ وَالْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِى حَفْصَةَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَأَتَاهُ رَجُلٌ يَوْمَ النَّحْرِ وَهُوَ وَاقِفٌ عِنْدَ الْجَمْرَةِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّى حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِىَ. قَالَ « ارْمِ وَلاَ حَرَجَ ». ثُمَّ أَتَاهُ آخَرُ فَقَالَ إِنِّى كُنْتُ ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِىَ. قَالَ « ارْمِ وَلاَ حَرَجَ ». وَأَتَاهُ آخَرُ فَقَالَ إِنِّى أَفَضْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِىَ . قَالَ « ارْمِ وَلاَ حَرَجَ ».
قَالَ فَمَا رَأَيْتُهُ يَوْمَئِذٍ يُسْأَلُ عَنْ شَىْءٍ إِلاَّ قَالَ « افْعَلْ وَلاَ حَرَجَ »
2536 حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کوسنا ‘ قربانی کے دن ایک شخص آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضرہوا ‘ اس وقت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جمرہ کے پاس ٹھہرے ہوئے تھے ‘ اس شخص نے عرض کی یارسول اللہ ! میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے ہی سرمنڈوالیا ہے ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تم اب کنکریاں مارلو ‘ کوئی حرج نہیں ہے ‘ پھر ایک اور شخص آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ اس نے عرض کی میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے قربانی کرلی ہے ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تم اب کنکریاں مارلو کوئی حرج نہیں ے۔ راوی بیان کرتے ہیں ایک اور شخص آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ اس نے عرض کی میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے ہی طواف افاضہ کرلیا ہے ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم اب کنکریاں مارلو ‘ کوئی حرج نہیں ہے۔
راوی بیان کرتے ہیں اس دن میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جس چیز کے باری میں بھی سوال کیا گیا ‘ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہی فرمایا تم اب کرلو ‘ کوئی حرج نہیں ہے۔