279 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِى أَبِى حَدَّثَنَا ابْنُ الأَشْجَعِىِّ حَدَّثَنَا أَبِى عَنْ سُفْيَانَ عَنْ سَالِمٍ أَبِى النَّضْرِ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ قَالَ أَتَى عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ الْمَقَاعِدَ فَدَعَا بِوَضُوءٍ فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاَثًا وَيَدَيْهِ ثَلاَثًا ثَلاَثًا وَرِجْلَيْهِ ثَلاَثًا ثَلاَثًا ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ ثُمَّ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- هَكَذَا يَتَوَضَّأُ يَا هَؤُلاَءِ أَكَذَلِكَ قَالُوا نَعَمْ لِنَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عِنْدَهُ. صَحِيحٌ إِلاَّ التَّأْخِيرَ فِى مَسْحِ الرَّأْسِ فَإِنَّهُ غَيْرُ مَحْفُوظٍ تَفَرَّدَ بِهِ ابْنُ الأَشْجَعِىِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سُفْيَانَ بِهَذَا الإِسْنَادِ وَهَذَا اللَّفْظِ. وَرَوَاهُ الْعَدَنِيَّانِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ وَيَزِيدُ بْنُ أَبِى حَكِيمٍ وَالْفِرْيَابِىُّ وَأَبُو أَحْمَدَ وَأَبُو حُذَيْفَةَ عَنِ الثَّوْرِىِّ بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالُوا كُلُّهُمْ إِنَّ عُثْمَانَ تَوَضَّأَ ثَلاَثًا ثَلاَثًا وَقَالَ هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَتَوَضَّأُ لَمْ يَزِيدُوا عَلَى هَذَا وَخَالَفَهُمْ وَكِيعٌ رَوَاهُ عَنِ الثَّوْرِىِّ عَنْ أَبِى النَّضْرِ عَنْ أَبِى أَنَسٍ عَنْ عُثْمَانَ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- تَوَضَّأَ ثَلاَثًا ثَلاَثًا كَذَا قَالَ وَكِيعٌ وَأَبُو أَحْمَدَ عَنِ الثَّوْرِىِّ عَنْ أَبِى النَّضْرِ عَنْ أَبِى أَنَسٍ وَهُوَ مَالِكُ بْنُ أَبِى عَامِرٍ . وَالْمَشْهُورُ عَنِ الثَّوْرِىِّ عَنْ أَبِى النَّضْرِ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عُثْمَانَ.
بسر بن سعید بیان کرتے ہیں : حضرت عثمان غنی (رض)، ” مقاعد “ میں تشریف لائے ، آپ نے وضو کا پانی منگوایا، کلی کی، پھر ناک میں پانی ڈالا اور پھر اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا، پھر دونوں بازؤ وں کو تین، تین مرتبہ دھویا، پھر اپنے پاؤں تین، تین مرتبہ دھوئے، پھر سر کا مسح کیا اور یہ بات ارشاد فرمائی : مجھے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں یہ یاد ہے، آپ نے اسی طرح وضو کیا، پھر حضرت عثمان غنی (رض) نے حاضرین کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا : اے حضرات ! کیا یہ اسی طرح ہے ؟ تو ان حضرات نے جواب دیا : جی ہاں !
یہ بات نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چند اصحاب (رض) نے کہی تھی، جو اس وقت وہاں موجود تھے۔ یہ روایت مستند ہے، البتہ سر کے مسح میں تاخیر ہونا یہ محفوظ نہیں ہے۔ اس کو نقل کرنے میں ایک راوی منفرد ہے۔ جبکہ دیگر راویوں نے اپنی سند کے ہمراہ اس کو نقل کیا ہے۔ سب راویوں نے یہی بات نقل کی ہے : حضرت عثمان غنی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمام اعضاء کو تین، تین مرتبہ دھویا، پھر یہ بات بیان کی : میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اسی طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
ان راویوں نے اس کے علاوہ مزید کوئی بات نقل نہیں کی۔ اس کے برخلاف وکیع نامی راوی نے اپنی سند کے ہمراہ حضرت عثمان غنی (رض) کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے : نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وضو میں ہر عضو کو تین ، تین مرتبہ دھویا ۔
بعض دیگر راویوں نے بھی اس کو اسی حوالے سے نقل کیا ہے۔