2830 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِى لَيْلَى عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ بَاعَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ مِنَ الأَشْعَثِ رَقِيقًا مِنْ رَقِيقِ الإِمَارَةِ فَاخْتَلَفَا فِى الثَّمَنِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بِعْتُكَ بِعِشْرِينَ أَلْفًا. وَقَالَ الأَشْعَثُ اشْتَرَيْتُ مِنْكَ بِعَشْرَةِ آلاَفٍ. قَالَ عَبْدُ اللَّهِ إِنْ شِئْتَ حَدَّثْتُكَ بِحَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-. قَالَ هَاتِ. قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « إِذَا اخْتَلَفَ الْبَيِّعَانِ وَالْبَيْعُ قَائِمٌ بِعَيْنِهِ وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا بَيِّنَةٌ فَالْقَوْلُ مَا قَالَ الْبَائِعُ أَوْ يَتَرَادَّانِ الْبَيْعَ ». قَالَ الأَشْعَثُ أَرَى أَنْ يُرَدَّ الْبَيْعُ.
2830 ۔ قاسم بن عبدالرحمن اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے اشعث کو ایک سرکاری غلام فروخت کیا ان دونوں کے درمیان قیمت کے بارے میں اختلاف ہوگیا، حضرت عبداللہ نے کہا میں نے یہ بیس ہزار کے عوض میں آپ کو فروخت کیا ہے حضرت اشعث نے کہا میں نے اسے آپ سے دس ہزار کے عوض خریدا ہے۔ تو حضرت عبداللہ نے فرمایا کہ اگر آپ چاہیں تو میں اس بارے میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایک حدیث سناتا ہوں جو میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبانی سنی ہے تو حضرت اشعث نے کہا سنائیے۔ تو حضرت عبداللہ نے فرمایا میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے جب سودا کرنے والے دوفریقوں کے درمیان اختلاف ہوجائے اور فروخت شدہ سامان اپنی اصلی حالت میں موجود ہو اور ان دونوں فریقوں کے پاس کوئی ثبوت نہ ہو تو اس بارے میں فروخت کرنے والے کا قول معبتر ہوگا، یاپھروہ دونوں اس سودے کو ختم کردیں گے تو حضرت اشعث نے کہا میں یہ سمجھتاہوں کہ آپ اس سودے کو ختم کردیں۔