2864 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ وَالْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ قَالاَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِىُّ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى ذِئْبٍ عَنْ أَبِى الْمُعْتَمِرِ عَنْ عُمَرَ بْنِ خَلْدَةَ الأَنْصَارِىِّ قَالَ جِئْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ فِى صَاحِبٍ لَنَا أُصِيبَ بِهَذَا الدَّيْنِ - يَعْنِى أَفْلَسَ - فَقَالَ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى رَجُلٍ مَاتَ أَوْ أَفْلَسَ أَنَّ صَاحِبَ الْمَتَاعِ أَحَقُّ بِمَتَاعِهِ إِذَا وَجَدَهُ بِعَيْنِهِ إِلاَّ أَنْ يَتْرُكَ صَاحِبُهُ وَفَاءً.
2864 ۔ عمر بن خلدہ انصاری بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ اپنے ایک ساتھی کے بارے میں حضرت ابوہریرہ (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے جو مرض کی وجہ سے مفلس قرار دیا جاچکا تھا۔ تو حضرت ابوہریرہ (رض) نے بتایا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایسے شخص کے بارے میں یہ فیصلہ دیا تھا جو انتقال کر چکاہویاجومفلس ہوچکاہو سامان کا حقیقی مالک جب اپنے مال کو بعینہ کسی کے پاس پائے تو وہ اس مال کا زیادہ حق دار ہوگا البتہ وہ اپنے ساتھی کو پوری ادائیگی کرے (یعنی جو اس ساتھی کا حصہ بنتا ہے ) ۔