2865 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ عَنِ ابْنِ أَبِى فُدَيْكٍ عَنِ ابْنِ أَبِى ذِئْبٍ قَالَ حَدَّثَنِى أَبُو الْمُعْتَمِرِ بْنُ عَمْرِو بْنِ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ خَلْدَةَ الزُّرَقِىِّ - وَكَانَ قَاضِى الْمَدِينَةِ - أَنَّهُ قَالَ جِئْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ فِى صَاحِبٍ لَنَا أَفْلَسَ فَقَالَ هَذَا الَّذِى قَضَى فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « أَيُّمَا رَجُلٍ مَاتَ أَوْ أَفْلَسَ فَصَاحِبُ الْمَتَاعِ أَحَقُّ بِمَتَاعِهِ إِذَا وَجَدَهُ بِعَيْنِهِ » .
2865 ۔ ابن خلدہ زرقی جو مدینہ منورہ کے قاضی تھے وہ بیان کرتے ہیں کہ ہم اپنے ایک ساتھی کے بارے میں حضرت ابوہریرہ (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے جو مفلس ہوچکا تھا، تو حضرت ابوہریرہ (رض) نے بتایا یہ وہ مسئلہ ہے جس کے بارے میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ فیصلہ دیا ہے جو شخص فوت ہوجائے یامفلس قرار دے دیا جائے اور پھر کسی سامان کا مالک بعینہ اپنے سامان کو اس کے پاس پائے تو وہ اس سامان کا زیادہ حق دار ہوگا۔