2919 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَى أَبُو الأَزْهَرِ وَأَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالاَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- اسْتَعَارَ مِنْهُ يَوْمَ حُنَيْنٍ أَدْرَاعًا فَقَالَ أَغَصْبًا يَا مُحَمَّدُ قَالَ « بَلْ عَارِيَّةٌ مَضْمُونَةٌ ». قَالَ فَضَاعَ بَعْضُهَا فَعَرَضَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَنْ يَضْمَنَهَا فَقَالَ أَنَا الْيَوْمَ فِى الإِسْلاَمِ أَرْغَبُ.
2919 ۔ امیہ بن صفوان اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غزوہ حنین کے موقع پر ان سے کچھ زرہیں ادھار مانگیں تو انھوں نے عرض کی اے حضرت محمد ! کیا غصب کررہے ہیں ؟ نبی کریم نے فرمایا نہیں بلکہ یہ عارضی طور پر لے رہے ہیں جن کا تاوان بھی ادا کیا جائے گا۔
راوی بیان کرتے ہیں ان میں سے کچھ زرہیں خراب ہوگئیں تو نبی نے انھیں یہ پیش کش کی کہ وہ ان کا تاوان لیں تو انھوں نے عرض کی کہ اب میں اسلام کی طرف راغب ہوچکاہوں اور مجھے اس میں زیادہ دل چسپی ہے۔