2920 - حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الْمَجِيدِ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ عَنِ ابْنِ أَبِى مُلَيْكَةَ عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ اسْتَعَارَ مِنِّى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَدْرَاعًا مِنْ حَدِيدٍ فَقُلْتُ مَضْمُونَةٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ « مَضْمُونَةٌ ». فَضَاعَ بَعْضُهَا فَقَالَ لَهُ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- « إِنْ شِئْتَ غَرِمْتُهَا » . قَالَ لاَ إِنَّ فِى قَلْبِى مِنَ الإِسْلاَمِ غَيْرَ مَا كَانَ يَوْمَئِذٍ.
2920 ۔ امیہ بن صفوان بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد نے یہ بات بیان کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے لوہے کی کچھ زرہیں ادھا لیں تو میں نے عرض کی یارسول اللہ کیا یہ ضمانت والی ہیں ؟ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ ضمانت والی ہیں ان میں سے بعض ضائع ہوگئیں تو نبی نے ان سے فرمایا تم چاہو تو میں تمہیں اس کا تاوان دے دیتاہوں انھوں نے عرض کی نہیں ، اب میرے دل میں اسلام آچکا ہے اور یہ دل ہرچیز سے زیادہ (سماچکا ہے ) ۔