2974 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجَوَيْهِ حَدَّثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ وَاسِعٍ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ أَنَّهُ كَلَّمَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فِى الْبُيُوعِ فَقَالَ مَا أَجِدُ لَكُمْ شَيْئًا أَوْسَعَ مِمَّا جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- لِحَبَّانَ بْنِ مُنْقِذٍ إِنَّهُ كَانَ ضَرِيرَ الْبَصَرِ فَجَعَلَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَهْدَهُ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ إِنْ رَضِىَ أَخَذَ وَإِنْ سَخِطَ تَرَكَ .
2974 ۔ طلحہ بن یزید کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ انھوں نے کچھ سودوں کے بارے میں حضرت عمر بن خطاب (رض) سے بات چیت کی (کہ ان کا حکم کیا ہے ) تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا مجھے تمہارے لیے ایسی کوئی چیز نہیں ملی جو اس سے زیادہ گنجائش والی ہو جو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حبان بن منقر زال کو دی تھی ان کی نظر کمزور تھی تو نبی کریم نے انھیں یہ اجازت دی کہ وہ سودے کو کالعدم کرنے کا تین دن کا اختیار رکھے گا اور اگر وہ راضی ہوں گے تولے لیں گے اگر پسند نہیں کریں گے تو اس کو ترک کردیں گے۔