2975 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ حَدَّثَنِى ابْنُ إِسْحَاقَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كَانَ حَبَّانُ بْنُ مُنْقِذٍ رَجُلاً ضَعِيفًا وَكَانَ قَدْ سُفِعَ فِى رَأْسِهِ مَأْمُومَةٌ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- لَهُ الْخِيَارَ فِيمَا يَشْتَرِى ثَلاَثًا وَكَانَ قَدْ ثَقُلَ لِسَانُهُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « بِعْ وَقُلْ لاَ خِلاَبَةَ ». فَكُنْتُ أَسْمَعُهُ يَقُولُ لاَ خِذَابَةَ لاَ خِذَابَةَ.
2975 ۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت صفوان بن منقر ایک عمر رسیدہ آدمی تھے ان کے سر میں چوٹ لگی تھی ، اس کی وجہ سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں یہ اختیار دیا تھا کہ وہ جو سودا کریں گے اس میں تین دن تک سودے کو ختم کرنے کا اختیار ہوگا، ان کی زبان میں کچھ لکنت پائی جاتی تھی نبی کریم نے ان سے یہ فرمایا تھا تم فروخت کرتے ہوئے یہ کہہ دیا کرو کہ کوئی دھوکا نہیں چلے گا۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں میں نے انھیں یہ کہتے ہوئے سنا کہ وہ لفظ خلابہ کی بجائے خذابہ کہا کرتے تھے ۔