2976 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلاً كَانَ فِى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- كَانَ يَبْتَاعُ وَكَانَ فِى عُقْدَتِهِ - يَعْنِى فِى عَقْلِهِ - ضَعْفٌ فَأَتَى أَهْلُهُ نَبِىَّ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالُوا يَا نَبِىَّ اللَّهِ احْجُرْ عَلَى فُلاَنٍ فَإِنَّهُ يَبْتَاعُ وَفِى عُقْدَتِهِ ضَعْفٌ فَدَعَاهُ فَنَهَاهُ عَنِ الْبَيْعِ فَقَالَ إِنِّى لاَ أَصْبِرُ عَنِ الْبَيْعِ . فَقَالَ « إِنْ كُنْتَ غَيْرَ تَارِكٍ الْبَيْعَ فَقُلْ هَا وَهَا وَلاَ خِلاَبَةَ ».
2976 ۔ حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ اقدس میں ایک شخص تھا جو خرید و فروخت کیا کرتا تھا، اس کی ذہنی حالت میں کچھ خرابی پائی جاتی تھی ایک مرتبہ اس کے گھروالے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا اے اللہ کے نبی۔ آپ فلاں شخص کو تصرف کرنے سے روک دیں کیونکہ وہ سودا کرلیتا ہے لیکن اس کی ذہنی حالت میں کچھ کمزوری پائی جاتی ہے۔ نبی کریم نے اسے بلایا اور اسے سودا کرنے سے منع کردیا، تو اسنے عرض کی میں خریدو فروخت کیے بغیر گزارہ نہیں کرسکتا، تو نبی کریم نے ارشاد فرمایا اگر تم نے ضرور خریدو فروخت کرنی ہے تو یہ کہا کرو یہ اس کے عوض میں ہے اور کوئی دھوکا نہیں چلے گا۔