hadith book logo

Sunan Al Daraqutni: Hadith 2993

.

سنن الدارقطني

2993
Sunan Al Daraqutni
2993 - حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْحَسَّانِىُّ حَدَّثَنَا مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ حَدَّثَنِى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَبِيهِمَا أَنَّهُ كَانَ فِى غَزَاةٍ وَسَمِعَ رَجُلاً يُنَادِى آخَرَ يَقُولُ يَا سُرَّقُ يَا سُرَّقُ فَدَعَاهُ فَقَالَ مَا سُرَّقُ قَالَ سَمَّانِيهِ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- إِنِّى اشْتَرَيْتُ مِنْ أَعْرَابِىٍّ نَاقَةً ثُمَّ تَوَارَيْتُ عَنْهُ فَاسْتَهْلَكْتُ ثَمَنَهَا فَجَاءَ الأَعْرَابِىُّ يَطْلُبُنِى فَقَالَ لَهُ النَّاسُ ائْتِ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَاسْتَأْذِنْ عَلَيْهِ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ رَجُلاً اشْتَرَى مِنِّى نَاقَةً ثُمَّ تَوَارَى عَنِّى فَمَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ قَالَ « اطْلُبْهُ ». قَالَ فَوَجَدَنِى فَأَتَى بِى النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذَا اشْتَرَى مِنِّى نَاقَةً ثُمَّ تَوَارَى عَنِّى. فَقَالَ « أَعْطِهِ ثَمَنَهَا ». قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ اسْتَهْلَكْتُهُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « فَأَنْتَ سُرَّقٌ ». ثُمَّ قَالَ لِلأَعْرَابِىِّ « اذْهَبْ فَبِعْهُ فِى السُّوقِ وَخُذْ ثَمَنَ نَاقَتِكَ ». فَأَقَامَنِى فِى السُّوقِ فَأُعْطِىَ بِى ثَمَنًا فَقَالَ لِلْمُشْتَرِى مَا تَصْنَعُ بِهِ قَالَ أَعْتِقُهُ . فَأَعْتَقَنِى الأَعْرَابِىُّ.
2993 ۔ زید بن اسلم کے صاحبزادے عبدالرحمن اور عبداللہ اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں وہ ایک جنگ میں شریک ہوئے انھوں نے کسی شخص سنا جو کسی دوسرے شخص کو بلند آواز میں پکار رہا تھا اے سرق، اے سرق، توزید بن اسلم نے بلایا اور دریافت کیا سرق سے مراد کیا ہے ؟ تو انھوں نے بتایا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرا یہ نام رکھا ہے میں نے ایک دیہاتی سے ایک اونٹنی خریدی، پھر میں اس سے چھپ گیا میں نے اس اونٹنی کی قیمت کو بھی ضائع کردیا ، وہ دیہاتی مجھے تلاش کرتا ہوا تو لوگوں نے اس سے کہا، تم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں جاؤ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس بارے میں بتاؤ، وہ شخص نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی یارسول اللہ ایک شخص نے مجھ سے اونٹنی خریدی اور پھر وہ مجھ سے چھپ گیا، میں اسے ڈھونڈ نہیں سکا، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم اسے تلاش کرو۔ راوی بیان کرتے ہیں اس شخص نے مجھے ڈھونڈ لیا اور مجھے لے کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ وہ شخص ہے جس نے مجھ سے اونٹنی خریدی تھی اور مجھ سے چھپ گیا تھا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم س کی قیمت ادا کرو، تو میں نے عرض کی یارسول اللہ وہ تو مجھ سے ضائع ہگئی ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم سرق ہو ! پھر آپ نے دیہاتی سے فرمایا تم جاؤ اسے بازار میں فروخت کرو اور اپنی اونٹنی کی قیمت وصول کرو ۔ تو اس دیہاتی نے مجھے بازار میں کھڑا کیا میری جو قیمت لگائی گئی تو اس نے خریدار سے دریافت کیا تم اس کا کیا کرو گے ؟ اس نے بتایا میں اسے آزاد کردوں گا تو اس دیہاتی نے ہی مجھے آزاد کردیا۔