2994 - حَدَّثَنَا عَلِىٌّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ قَالَ رَأَيْتُ شَيْخًا بِالإِسْكَنْدَرِيَّةِ يُقَالُ لَهُ سُرَّقٌ فَقُلْتُ مَا هَذَا الاِسْمُ قَالَ اسْمٌ سَمَّانِيهِ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَلَنْ أَدَعَهُ. قُلْتُ وَلِمَ سَمَّاكَ قَالَ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَأَخْبَرْتُهُمْ أَنَّ مَالِى يَقْدَمُ فَبَايَعُونِى فَاسْتَهْلَكْتُ أَمْوَالَهُمْ فَأَتَوْا بِى النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ « أَنْتَ سُرَّقٌ ». وَبَاعَنِى بِأَرْبَعَةِ أَبْعِرَةٍ فَقَالَ الْغُرَمَاءُ لِلَّذِى اشْتَرَانِى مَا تَصْنَعُ بِهِ قَالَ أَعْتِقُهُ. قَالُوا فَلَسْنَا بِأَزْهَدَ فِى الأَجْرِ مِنْكَ. فَأَعْتَقُونِى بَيْنَهُمْ وَبَقِىَ اسْمِى.
2994 ۔ زید بن اسلم بیان کرتے ہیں میں نے اسکندریہ میں ایک بزرگ کو دیکھا جن کا نام ، سرق، تھا میں نے دریافت کیا یہ کیا نام ہوا ؟ تو انھوں نے بتایا میرا یہ نام نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رکھا ہے میں اسے ترک نہیں کروں گا، میں نے دریافت کیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آپ کا یہ نام کیوں رکھا ؟ تو انھوں نے بتایا میں مدینہ منورہ آیا اور میں نے لوگوں کو بتایا کہ میرا مال آرہا ہے ان لوگوں نے میرے ساتھ کچھ سودے کیے میں نے انھیں ادائیگیاں کرنی تھیں وہ مال مجھ سے ضائع ہوگیا وہ لوگ مجھے لے کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضڑ ہوئے تو آپ نے فرمایا تم سرق ہو ! پھر آپ نے مجھے چار اونٹنیوں کے عوض میں فروخت کروادیا، ان قرض خواہوں نے مجھے خرید نے والے سے دریافت کیا تم اس کا کیا کرو گے ؟ اس نے بتایا میں اسے آزاد کردوں گا تو ان لوگوں نے کہا ہمیں بھی اجر کی اتنی ضرورت ہے جتنی تمہیں ہے تو ان لوگوں نے مل کر مجھے آزاد کردیا لیکن میرا یہ نام باقی رہ گیا۔