2999 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْجَمَاهِرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ وَعُبَيْدَ اللَّهِ ابْنَىْ عُمَرَ رضى الله عنه مَرَّا بِأَبِى مُوسَى الأَشْعَرِىِّ وَهُوَ عَلَى الْعِرَاقِ مُقْبِلَيْنِ مِنْ أَرْضِ فَارِسَ فَقَالَ مَرْحَبًا بِابْنَىْ أَخِى لَوْ كَانَ عِنْدِى شَىْءٌ أَوْ كُنْتُ أَقْدِرُ عَلَى شَىْءٍ وَبَلَى هَذَا الْمَالُ قَدِ اجْتَمَعَ عِنْدِى فَخُذَاهُ فَاشْتَرِيَا بِهِ مَتَاعًا فَإِذَا قَدِمْتُمَا عَلَى عُمَرَ فَبِيعَاهُ وَلَكُمَا الرِّبْحُ وَادْفَعَا إِلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ رَأْسَ الْمَالِ وَاضْمَنَاهُ . قَالَ فَلَمَّا قَدِمَا عَلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ لَهُمَا أَكُلَّ أَوْلاَدِ الْمُهَاجِرِينَ صَنَعَ بِهِمْ مِثْلَ هَذَا فَقَالاَ لاَ. فَقَالَ إِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ يَأْبَى أَنْ يُجِيزَ ذَلِكَ. وَجَعَلَهُ قِرَاضًا.
2999 ۔ عبداللہ بن زید اپنے والد کے حوالے سے اپنے داداکایہ بیان نقل کرتے ہیں حضرت عمر (رض) کے دوصاحبزادے عبداللہ اور عبیداللہ کا گزر حضرت ابوموسی اشعری (رض) کے پاس سے ہواجوعراق میں (گورنر کے فرائض سرانجام دے رہے ) تھے ، یہ دونوں حضرات ایران کی سرزمین سے آرہے تھے حضرت ابوموسی اشعری نے فرمایا میرے دونوں بھتیجوں کو خوش آمدید ! کاش میرے پاس کوئی چیز ہوتی (راوی کو شک ہے کہ شاید یہ الفاظ ہیں) کاش میں کسی چیز پر قدرت رکھتا (جو میں تمہیں دے سکتا) ہاں البتہ میرے پاس یہ مال اکٹھا ہوا ہے تم اسے لو، اس کے ذریعہ سامان خریدو جب تم حضرت عمر (رض) کے پاس جاؤ تو اسے فروخت کردینا، منافع تمہارا ہوا اور اصل مال تم حضرت عمر کو ادا کردینا۔
راوی بیان کرتے ہیں جب یہ دونوں حضرات امیرالمومنین کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انھوں نے ان دونوں سے دریافت کیا کیا ابوموسی نے تمام مہاجرین کی اولاد کے ساتھ یہی سلوک کیا تھا ؟ ان دونوں نے جواب دیا جی نہیں ! تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا امیرالمومنین اسے درست قرار نہیں دیں گے ، انھوں نے اسے ، قراض، کے طور پر دیا۔