3000 - حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِى عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِى حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا حَيْوَةُ وَابْنُ لَهِيعَةَ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَسْوَدِ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ وَعَنْ غَيْرِهِ أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- كَانَ يَشْتَرِطُ عَلَى الرَّجُلِ إِذَا أَعْطَاهُ مَالاً مُقَارَضَةً فَضَرَبَ لَهُ بِهِ أَلاَّ تَجْعَلَ مَالِى فِى كَبِدٍ رَطْبَةٍ وَلاَ تَحْمِلَهُ فِى بَحْرٍ وَلاَ تَنْزِلَ بِهِ فِى بَطْنِ مَسِيلٍ فَإِنْ فَعَلْتَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ فَقَدْ ضَمِنْتَ مَالِى.
3000 ۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابی حضرت حکیم بن حزام (رض) جب کسی شخص کو، مقارضہ کے طور پر کوئی چیز دیتے تھے تو اس پر یہ شرط عائد کرتے تھے کہ تم میرے مال کو کسی جاندار کو نہیں دو گے، کسی سمندر ی سفر پر نہیں لے جاؤ گے ، اسے لے کر کسی آبی گزرگاہ میں پڑاؤ نہیں کرو گے اگر تم نے اس میں سے کچھ بھی کیا (اور میرا مال ضائع ہوا) تو اس کا تاوان ادا کرو گے۔