300 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَضْرَمِىُّ بِمَكَّةَ حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْحَضْرَمِىُّ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا ابْنُ الْبَيْلَمَانِىِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَنَّهُ تَوَضَّأَ بِالْمَقَاعِدِ وَالْمَقَاعِدُ بِالْمَدِينَةِ حَيْثُ يُصَلَّى عَلَى الْجَنَائِزِ عِنْدَ الْمَسْجِدِ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلاَثًا ثَلاَثًا وَاسْتَنْثَرَ ثَلاَثًا وَمَضْمَضَ ثَلاَثًا وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاَثًا وَيَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ثَلاَثًا وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ ثَلاَثًا وَغَسَلَ قَدَمَيْهِ ثَلاَثًا وَسَلَّمَ عَلَيْهِ رَجُلٌ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ حَتَّى فَرَغَ فَلَمَّا فَرَغَ كَلَّمَهُ يَعْتَذِرُ إِلَيْهِ وَقَالَ لَمْ يَمْنَعْنِى أَنْ أَرُدَّ عَلَيْكَ إِلاَّ أَنَّنِى سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « مَنْ تَوَضَّأَ هَكَذَا وَلَمْ يَتَكَلَّمْ ثُمَّ قَالَ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَ الْوُضُوءَيْنِ ».
حضرت عثمان غنی (رض) کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انھوں نے مقاعد (کھلی جگہ) میں وضو کیا، مدینہ منورہ میں مقاعد (کھلی جگہ) وہ ہے جہاں مسجد کے قریب نماز جنازہ ادا کی جاتی ہے۔ حضرت عثمان غنی (رض) نے پہلے اپنے دونوں ہاتھ تین، تین مرتبہ دھوئے، پھر تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالا، پھر تین مرتبہ کلی کی، اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا، پھر دونوں بازؤ وں کو کہنیوں تک تین مرتبہ دھویا، پھر اپنے سر کا تین مرتبہ مسح کیا، پھر دونوں پاؤں تین مرتبہ دھوئے، ایک شخص نے انھیں سلام کیا، وہ ابھی وضو کررہے تھے، حضرت عثمان غنی (رض) نے اسے سلام کا جواب نہیں دیا، یہاں تک کہ وہ وضو کرکے فارغ ہوگئے، فارغ ہوئے تو اس کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے اس کے سامنے عذر پیش کیا اور فرمایا : میں نے تمہیں اس لیے سلام کا جواب نہیں دیا، کیونکہ میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : جو شخص اس طرح وضو کرے اور وضو کے دوران کوئی کلام نہ کرے اور یہ (وضو کے بعد) پڑھے :” میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں، اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، وہی ایک معبود ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے، حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے خاص بندے اور خاص رسول ہیں “۔ تو اس شخص کے دو مرتبہ وضو کرنے کے درمیان کیے جانے والے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔