3006 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ الأَحْوَلُ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ الْقَوَارِيرِىُّ حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَزِيدَ أَبُو مَعْشَرٍ الْبَرَّاءُ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الأَخْنَسِ عَنِ ابْنِ أَبِى مُلَيْكَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مَرُّوا بِحَىٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ وَفِيهِمْ لَدِيغٌ أَوْ سَلِيمٌ فَقَالُوا هَلْ فِيكُمْ مِنْ رَاقٍ فَانْطَلَقَ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَرَقَاهُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ عَلَى شَاءٍ فَبَرَأَ فَجَاءَ إِلَى أَصْحَابِهِ بِالشَّاءِ فَقَالُوا أَخَذْتَ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ أَجْرًا فَلَمَّا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخَذَ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ أَجْرًا. فَقَالَ الرَّجُلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا مَرَرْنَا بِحَىٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ وَفِيهِمْ رَجُلٌ لَدِيغٌ أَوْ سَلِيمٌ فَانْطَلَقْتُ فَرَقَيْتُهُ بِكِتَابِ اللَّهِ عَلَى شَاءٍ فَبَرَأَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِنَّ أَحَقَّ مَا أَخَذْتُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا كِتَابُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ». هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِىُّ عَنْ سِيدَانَ بْنِ مُضَارِبٍ عَنْ أَبِى مَعْشَرٍ الْبَرَّاءِ بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
3006 ۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کچھ اصحاب کسی عرب قبیلے کے پاس سے گزرے جن کے ایک فرد کو (کسی زہریلے جانور نے ) کاٹ لیا ہے کیا تم میں سے کسی کو دم کرنا آتا ہے تو ان حضرات میں سے ایک صاحب چلے گئے انھوں نے سردار پر دم کیا اس شرط پر کہ بکریاں دی جائیں گی پھر وہ ان بکریوں کو ساتھ لے کر اپنے ساتھیوں کے پاس آئے تو انھوں نے دریافت کیا آپ نے کس چیز کے ذریعہ دم کیا تھا تو انھوں نے بتایا کہ میں نے سورة فاتحہ کے ذریعہ دم کیا تھا تو ان ساتھیوں نے کہا آپ نے اللہ کی کتاب کا معاوضہ وصول کیا ہے ؟ ان ساتھیوں نے اس میں سے کچھ بھی نہیں لیاجو انھیں معاوضے کے طور پر ملا تھا، جب یہ لوگ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آئے تو انھوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتایا یارسول اللہ اس نے اللہ کی کتاب کا معاوضہ وصول کیا ہے تو ان صاحب نے بھی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتایا یارسول اللہ ہم ایک عرب قبیلے کے پاس سے گزرے جن کے ایک فرد کو (کسی زہریلے جانور نے) کاٹ لیا تھا میں گیا اور میں نے معاوضے کے طور پر بکریاں (وصول کرنے کی ) شرط پر اللہ کی کتاب پڑھ کر اس پر دم کردیا تو وہ ٹھیک ہوگیا، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم جس چیز کا معاوضۃ وصول کرتے ہو ان میں سب سے زیادہ حق دار اللہ کی کتاب ہے۔
یہ حدیث صحیح ہے اسے امام بخاری نے سیدان بن مضارب کے حوالے سے ابومعشر سے نقل کیا ہے۔