hadith book logo

Sunan Al Daraqutni: Hadith 3005

.

سنن الدارقطني

3005
Sunan Al Daraqutni
3005 - حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ عِيسَى الطَّائِىُّ حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مُسْلِمٍ أَبُو الْحُسَيْنِ الْعِجْلِىُّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الأَخْنَسِ عَنِ ابْنِ أَبِى مُلَيْكَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بَيْنَمَا رَكْبٌ فِيهِمْ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- إِذْ عَرَضَ لَهُمْ رَجُلٌ فَقَالَ إِنَّ زَعِيمَ الْحَىِّ لَسَلِيمٌ - يَعْنِى لَدِيغًا - فَهَلْ فِيكُمْ مِنْ رَاقٍ فَانْطَلَقَ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَرَقَاهُ عَلَى شَاءٍ ثُمَّ جَاءَ بِهَا إِلَى أَصْحَابِهِ فَقَالُوا بِمَ رَقَيْتَهُ قَالَ رَقَيْتُهُ بِأُمِّ الْكِتَابِ فَقَالُوا أَخَذْتَ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ أَجْرًا فَلَمْ يَقْرَبُوا شَيْئًا مِمَّا أَصَابَ فَلَمَّا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخَذَ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ أَجْرًا فَحَدَّثَهُ الرَّجُلُ بِمَا صَنَعَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « وَمَا يُدْرِيكَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ ». يَعْنِى أُمَّ الْكِتَابِ ثُمَّ قَالَ « إِنَّ أَحَقَّ مَا أَخَذْتُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا كِتَابُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ». أُخْرِجَ فِى الصَّحِيحِ.
3005 ۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ کچھ صحابہ کرام کہیں جارہے تھے ایک شخص ان کے سامنے آیا اور بولا اس قبیلے کے سردار کو (کسی زہریلے جانور نے ) کاٹ لیا ہے کیا تم میں سے کسی کو دم کرنا آتا ہے تو ان حضرات میں سے ایک صاحب چلے گئے انھوں نے سردار پر دم کیا اس شرط پر کہ بکریاں دی جائیں گی پھر وہ ان بکریوں کو ساتھ لے کر اپنے ساتھیوں کے پاس آئے تو انھوں نے دریافت کیا آپ نے کس چیز کے ذریعہ دم کیا تھا تو انھوں نے بتایا کہ میں نے سورة فاتحہ کے ذریعہ دم کیا تھا تو ان ساتھیوں نے کہا آپ نے اللہ کی کتاب کا معاوضہ وصول کیا ہے ؟ ان ساتھیوں نے اس میں سے کچھ بھی نہیں لیاجو انھیں معاوضے کے طور پر ملا تھا، جب یہ لوگ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آئے تو انھوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتایا یارسول الہ اس نے اللہ کی کتاب کا معاوضہ وصول کیا ہے تو ان صاحب نے بھی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتایاجو انھوں نے کیا تھا (یعنی سورة فاتحہ کا دم کیا تھا) تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تمہیں کیسے پتاچلا کہ اس کا دم بھی ہوتا ہے ؟ یعنی سورة فاتحہ کا، پھر آپ نے ارشاد فرمایا، تم جس بھی چیز کا معاوضہ وصول کرتے ہو اس میں سب سے زیادہ حق دار اللہ کی کتاب ہے ۔
یہ حدیث صحیح میں نقل کی گئی ہے۔