3041 - حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مَطَرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِى الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ رضى الله عنه قَالَ يَعْنِى النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- « لاَ يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ وَلاَ تَنَاجَشُوا وَلاَ تَلَقَّوُا الرُّكْبَانَ لِلْبَيْعِ وَلاَ تَصُرُّوا الإِبِلَ وَالْغَنَمَ لِلْبَيْعِ فَمَنِ ابْتَاعَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ إِنْ شَاءَ أَنْ يُمْسِكَهَا أَمْسَكَهَا وَإِنْ شَاءَ أَنْ يَرُدَّهَا رَدَّهَا وَصَاعًا مِنْ تَمْرٍ لاَ سَمْرَاءَ ».
3041 ۔ حضرت ابوہریرہ (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں شہری شخص ، دیہاتی کے لیے سودا نہ کرے ، مصنوعی بولی نہ لگاؤ (اناج کے قافلے کے منڈی پہنچے سے پہلے) اسے راستے میں نہ ملو، اونٹنی یابکری کو فروخت کرنے کے لیے ان کا تصریہ نہ کرو جو شخص اسے خریدے گا اسے دو میں سے ایک بات کا اختیار ہوگا، اگر وہ اپنے پاس رکھناچا ہے تو اپنے پاس رکھے اور اگر وہ واپس کرنا چاہے تو اسے واپس کردے اور ساتھ میں کھجور کا ایک صاع دے ، گندم کا نہیں۔