3042 - حَدَّثَنَا أَبُو طَالِبٍ الْكَاتِبُ عَلِىُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْجَهْمِ حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ زَيْدٍ الْفَرَائِضِىُّ حَدَّثَنَا الْحُنَيْنِىُّ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لاَ جَلَبَ وَلاَ جَنَبَ وَلاَ اعْتِرَاضَ وَلاَ يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ وَلاَ تَصُرُّوا الإِبِلَ وَالْغَنَمَ فَمَنِ ابْتَاعَهَا بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ إِذَا حَلَبَهَا بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ إِنْ رَضِيَهَا أَمْسَكَهَا وَإِنْ سَخِطَهَا رَدَّهَا وَصَاعًا مِنْ تَمْرٍ ». تَابَعَهُ عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ فِى الْمُصَرَّاةِ حَدَّثَ بِهِ عَنْهُ دَاوُدُ بْنُ عِيسَى. وَقَالَ الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ عَنِ الْحَكَمِ عَنِ ابْنِ أَبِى لَيْلَى عَنْ عَلِىٍّ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم-. وَقَالَ أَبُو شَيْبَةَ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ. وَقَالَ شُعْبَةُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-.
3042 ۔ کثیر بن عبداللہ اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے جلب ، جنب، اعتراض) کی کوئی حیثیت نہیں ہے ) شہری ، شخص دیہاتی کے لیے کوئی سودا نہ کرے اونٹنی یابکری کا تصریہ نہ کیا جائے جو شخص تصریہ والے جانور کو خرید لے اور اس کا دودھ دوہ لے تو اسے دو میں سے ایک بات کا اختیار ہوگا اگر وہ چاہے تو اسے اپنے پاس رکھے اور اگر چاہے تو اسے واپس کردے اور ساتھ میں کھجور کا ایک صاع دیدے۔
عاصم بن عبیداللہ نے سالم کے حوالے سے حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے مصرات کے بارے میں اسے نقل کرنے میں متابعت کی ہے ان کے حوالے سے داؤد بن عیسیٰ نے اس روایت کو نقل کیا ہے ۔
حسن بن عمارہ نے حکم کے حوالے سے ابن ابی لیلی کے حوالے سے ، حضرت علی (رض) کے حوالے سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کیا ہے ۔
ابوشیبہ نامی راوی نے اسے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے ۔
شعبہ نامی راوی نے اسے ایک صحابی کے حوالے سے (جن کا نام مذکور نہیں ہے ) روایت کیا ہے۔