3048 - حَدَّثَنَا أَبُو سَهْلٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُقْبَةَ السَّدُوسِىُّ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَرْقَمَ أَبُو أَرْقَمَ الْكِنْدِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْجَارُودِ عَنْ حَبِيبِ بْنِ يَسَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ إِذَا دَفَعَ مَالاً مُضَارَبَةً اشْتَرَطَ عَلَى صَاحِبِهِ لاَ يَسْلُكُ بِهِ بَحْرًا وَلاَ يَنْزِلُ بِهِ وَادِيًا وَلاَ يَشْتَرِى بِهِ ذَاتَ كَبِدٍ رَطْبَةٍ فَإِنْ فَعَلَ فَهُوَ ضَامِنٌ فَرَفَعَ شَرْطَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَأَجَازَهُ. أَبُو الْجَارُودِ ضَعِيفٌ.
3048 ۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں حضرت عباس بن عبدالمطلب (رض) جب ایک شخص کو اپنا مال مضاربت کے طور پر دیاتوساتھ یہ شرط عائد کی کہ وہ اس مال کو لے کر سمندر میں سفر نہیں کرے گا، اس کے ساتھ کسی (وادی (یعنی بےآب وگیاہ) جگہ پر پڑاؤ نہیں کرے گا، اس کے ذریعہ کسی جاندار کو نہیں خریدے گا، اور اگر وہ ایسا کرے گا تو وہ اس کا ضمان (تاوان) ادا کرے گا، پھر انھوں نے یہ شرط نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے ذکر کی تو آپ نے اسے درست قرار دیا۔