3049 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَحْرٍ الْعَطَّارُ بِالْبَصْرَةِ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ الْوَصَّافِىُّ حَدَّثَنِى عَطِيَّةُ عَنْ أَبِى سَعِيدٍ قَالَ شَهِدْتُ جَنَازَةً فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَلَمَّا وُضِعَتْ سَأَلَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « عَلَيْهِ دَيْنٌ ». قَالُوا نَعَمْ فَعَدَلَ عَنْهَا وَقَالَ « صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ ». فَلَمَّا رَآهُ عَلِىٌّ يُقَفَّى قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَرِئَ مِنْ دَيْنِهِ وَأَنَا ضَامِنٌ لِمَا عَلَيْهِ فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَصَلَّى عَلَيْهِ ثُمَّ انْصَرَفَ فَقَالَ « يَا عَلِىُّ جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا فَكَّ اللَّهُ رِهَانَكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَمَا فَكَكْتَ رِهَانَ أَخِيكَ الْمُسْلِمِ لَيْسَ مِنْ عَبْدٍ يَقْضِى عَنْ أَخِيهِ دَيْنَهُ إِلاَّ فَكَّ اللَّهُ رِهَانَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ». فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لِعَلِىٍّ هَذَا خَاصَّةً قَالَ « بَلْ لِعَامَّةِ الْمُسْلِمِينَ ».
3049 ۔ حضرت ابوسعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں میں ایک نماز جنازہ میں شریک ہوا جس میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی موجود تھے جب اسے رکھا گیا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت کیا اس کے ذمہ کوئی قرض ہے لوگوں نے عرض کی جی ہاں ! تو نبی کریم وہاں سے ہٹنے لگے آپ نے ارشاد فرمایا تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ ادا کرلو۔ جب حضرت نے آپ کو واپس جاتے ہوئے دیکھاتو انھوں نے عرض کی یارسول اللہ یہ شخص اپنے قرض سے بری الذمہ ہے اس کے ذمہ جو ادائیگی ہے میں اس کا ضامن ہوں۔ تو نبی کریم واپس تشریف لائے آپ نے اس شخص کی نماز جنازہ ادا کی جب آپ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو آپ نے ارشاد فرمایا ، اے علی ! اللہ تمہیں جزائے خیر عطا کر جس طرح تم نے اپنے مسلمان بھائی کی ادائیگی اپنی ذمہ لی ہے اسی طرح اللہ قیامت کے دن تمہاری ادائیگیاں اپنے ذمہ لے جو بھی شخص اپنے بھائی کی طرف سے اس کا قرض ادا کرتا ہے تو اللہ قیامت کے دن اس شخص کی ادائیگیوں کا ذمہ دار ہوگا۔ ایک انصاری شخص کھڑا ہوا اس نے عرض کیا یارسول اللہ یہ حکم حضرت علی کے ساتھ مخصوص ہے ، نبی کریم نے فرمایا نہیں بلکہ یہ تمام مسلمانوں کے لیے عام ہے۔